365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 150 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 150

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 87 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔150 قرآن کریم کا اعجاز : قرآن شریف میں سب کچھ ہے۔مگر جب تک بصیرت نہ ہو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔قرآن شریف کو پڑھنے والا جب ایک سال سے دوسرے سال میں ترقی کرتا ہے ، تو وہ اپنے گزشتہ سال کو ایسا معلوم کرتا ہے کہ گویا وہ تب ایک طفل مکتب تھا۔کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس میں ترقی بھی ایسی ہے۔جن لوگوں نے قرآن شریف کو زوالوجوہ کہا ہے۔میں اُن کو پسند نہیں کرتا۔اُنہوں نے قرآن شریف کی عزت نہیں کی۔قرآن شریف کو ذوالمعارف کہنا چاہیے۔ہر مقام میں سے کئی معارف نکلتے ہیں اور ایک نکتہ دوسرے نکتہ کا نقیض نہیں ہوتا، مگر رو درنج، کینہ پرور اور غصہ والی طبائع کے ساتھ قرآن شریف کی مناسبت نہیں ہے اور نہ ایسوں پر قرآن شریف کھلتا ہے۔میرا ارادہ ہے کہ اس قسم کی تفسیر بنادوں۔نر ا فہم اور اعتقاد نجات کے واسطے کافی نہیں۔جب تک کہ وہ عملی طور پر ظہور میں نہ آوے۔عمل کے سوا کوئی قول جان نہیں رکھتا۔قرآن شریف پر ایسا ایمان ہونا چاہیے کہ یه در حقیقت معجزہ ہے اور خدا کے ساتھ ایسا تعلق ہو کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے۔جب تک لوگوں میں یہ بات پیدا نہ ہو جائے ، گویا جماعت نہیں بنی۔اگر کسی سے ایسی غلطی ہو کہ وہ صرف ایک غلط خیال کی وجہ سے ایک امر میں ہماری مخالفت کرتا ہے، تو ہم ایسے نہیں ہیں کہ ہم اس پر ناراض ہو جائیں۔ہم جانتے ہیں کہ کمزوروں پر رحم کرنا چاہیے۔ایک بچہ اگر بستر پر پاخانہ پھر دے اور ماں غصہ میں آکر اس کو پھینک دے، تو وہ خون کرتی ہے۔ماں اگر بچہ کے ساتھ ناراض ہونے لگے اور ہر روز اس سے روٹھنے لگے۔تو کام کب بنے۔وہ جانتی ہے کہ یہ ہنوز نادان ہے۔رفتہ رفتہ خدا اس کو عقل دے گا اور کوئی وقت آتا ہے کہ یہ سمجھ لے گا کہ ایسا کرنا نامناسب ہے۔سو ہم ناراض کیوں ہوں۔اگر ہم کذب پر ہیں، تو خود ہمارا کذب ہمیں ہلاک کرنے کے واسطے کافی ہے۔ہم اس راہ پر قدم مارنے والے سب سے پہلے نہیں ہیں۔جو ہم گھبر اجائیں کہ شاید حق والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا کیا معاملہ ہو اکرتا ہے۔