365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 204 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 204

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 68 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔204 انسانی قوی کی تعدیل اور جائز استعمال: اللہ تعالیٰ نے جس قدر قوی عطا فرمائے ، وہ ضائع کرنے کے لیے نہیں دیئے گئے ان کی تعدیل اور جائز استعمال کرنا ہی ان کی نشو و نما ہے۔اسی لیے اسلام نے قوائے رجولیت یا آنکھ کے نکالنے کی تعلیم نہیں دی۔بلکہ ان کا جائز استعمال اور تزکیہ نفس کرایا۔جیسے فرمایا قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (المومنون : 2 ) اور ایسے ہی یہاں بھی فرمایا: متقی کی زندگی کا نقشہ کھینچ کر آخر میں بطور نتیجہ یہ کہا۔وَ أُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ( البقرہ : 6) یعنی وہ لوگ جو تقویٰ پر قدم مارتے ہیں۔ایمان بالغیب لاتے ہیں۔نماز ڈگمگاتی ہے۔پھر اسے کھڑا کرتے ہیں۔خدا کے دیئے ہوئے سے دیتے ہیں۔باوجود خطرات نفس بلا سوچے، گزشتہ اور موجودہ کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور آخر کار وہ یقین تک پہنچ جاتے ہیں۔وہ لوگ ہیں جو ہدایت کے سر پر ہیں۔وہ ایک ایسی سڑک پر ہیں جو برابر آگے کو جارہی ہے اور جس سے آدمی فلاح تک پہنچتا ہے۔پس یہی لوگ فلاح یاب ہیں جو منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے اور راہ کے خطرات سے نجات پاچکے ہیں، اس لیے شروع میں ہی اللہ تعالی نے ہمیں تقویٰ کی تعلیم دے کر ایک کتاب ہم کو عطا کی۔جس میں تقویٰ کے وصایا بھی دیئے۔سو ہماری جماعت یہ غم کل دنیوی غموں سے بڑھ کر اپنی جان پر لگائے کہ ان میں تقویٰ ہے یا نہیں۔اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کرو: اہل تقویٰ کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں۔یہ تقویٰ کے ایک شاخ ہے، جس کے ذریعہ سے ہمیں ناجائز غضب کا مقابلہ کرنا ہے، بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لیے آخری اور کڑی منزل غضب سے بچنا ہی ہے۔مُجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے اور ایسا ہی کبھی خود غضب عجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے، کیونکہ غضب اس وقت ہو گا۔جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا