365 دن (حصہ دوم) — Page 166
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 47 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔166 کیا خدا اس جہان میں سزا دیتا ہے یا دوسرے جہان میں ؟“ میں نے آپ کے سوال کو سمجھ لیا ہے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نبیوں کی معرفت ہمیں بتایا ہے کہ اور واقعات صحیحہ نے جس کی شہادت دی ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سزا و جزا کا قانون خدا نے ایسا مقرر کیا ہے کہ اس کا سلسلہ اسی دنیا سے شروع ہو جاتا ہے اور جو شوخیاں اور شرارتیں انسان کرتا ہے وہ بجائے خود انہیں محسوس کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ان کی سزا اور پاداش جو یہاں ملتی ہے اس کی غرض تنبیہہ ہوتی ہے تا کہ تو بہ اور رجوع سے شوخ انسان اپنی حالت میں نمایاں تبدیلی پیدا کرے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ عبودیت کا جو رشتہ ہے اس کو قائم کرنے میں جو غفلت اس نے کی ہے اس پر اطلاع پا کر اسے مستحکم کرنا چاہئے۔اس وقت یا تو انسان اس تنبیہ سے فائدہ اٹھا کر اپنی کمزوری کا علاج اللہ تعالیٰ کی مدد سے چاہتا ہے اور یا اپنی شقاوت سے اس میں دلیر ہو جاتا اور اپنی سرکشی اور شرارت میں ترقی کر کے جہنم کا وارث ٹھہر جاتا ہے۔اس دنیا میں جو سزائیں بطور تنبیہہ دی جاتی ہیں، ان کی مثال مکتب کی سی ہے۔جیسے مکتب میں کچھ خفیف سی سزائیں بچوں کو ان کی غفلت اور سستی پر دی جاتی ہیں۔اس سے یہ غرض نہیں ہوتی کہ علوم سے انہیں استاد محروم رکھنا چاہتا ہے بلکہ اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ انہیں اپنی غرض پر اطلاع دے کر آئندہ کے لئے زیادہ محتاط اور ہوشیار بناوے۔اسی طرح پر اللہ تعالیٰ جو شرارتوں اور شوخیوں پر کچھ سزا دیتا ہے ، تو اس کا مقصد یہی ہو تا ہے کہ نادان انسان جو اپنی جان پر ظلم کر رہا ہے اپنی شرارت اور اس کے نتائج پر مطلع ہو کر اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت سے ڈر جاوے اور اس کی طرف رجوع کرے۔میں نے اپنی جماعت کے سامنے بارہا اس امر کو بیان کیا ہے اور اب آپ کو بھی بتاتا ہوں کہ جب انسان ایک کام کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی ایک فعل اس کے نتیجہ کے طور پر مرتب ہو تا ہے۔مثلاً جب ہم کافی مقدار زہر کی کھالیں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ ہم بلاک ہو جائیں گے۔