365 دن (حصہ دوم) — Page 11
درس القرآن 11 درس القرآن نمبر 87 رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ابْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقرة: 129) اس آیت میں یہ مضمون اپنے معراج پر پہنچتا ہے کہ بنی اسرائیل کا یہ اعتراض کہ نبوت ان سے چھین کر بنی اسماعیل میں کیسے جا سکتی ہے جبکہ بنی اسرائیل ابراہیمی وعدوں کے وارث ہیں۔یہ اعتراض بالکل غلط ہے حضرت ابراہیم نے تو ایک عظیم الشان نبی کے آنے کے متعلق دعا کی تھی اور اس کے معرکۃ الآراء کاموں کا اپنی دعا میں ذکر کیا ہے اور ان کاموں کو دیکھا جائے تو یہ کام کوئی بنی اسرائیلی کر ہی نہیں سکتا تھا مثلاً حضرت موسیٰ کا تابع بنی اسرائیلی نبی لازماً اپنی کتاب کے مطابق تعلیم دیتا اور اس دعا میں الکتاب یعنی کامل کتاب کے لئے دعا ہے جبکہ حضرت موسیٰ کی کتاب کامل کتاب نہیں تھی بلکہ نَصِيباً مِّنَ الْكِتَابِ یعنی کتاب کا کچھ حصہ تھی۔بہر حال نبیوں کے سردار صلی الی یکم کے بارہ میں حضرت ابراہیمؑ نے جو دعا کی تھی اس میں آپ کے چار عظیم الشان کام بیان کئے گئے ہیں۔پہلا عظیم الشان کام: يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايتك ہے کہ وہ رسول میری آیات کو پڑھ کر سنائے گا، چنانچہ قرآن مجید کی آیات آپ پر نازل ہوئیں اور آپ نے ہر آیت پڑھ کر سنائی ر لکھوا بھی دی اور آیات کے دوسرے معنے کے لحاظ سے تمام احکامات جو اللہ کے حکم سے اور اترے، آپ صلی ا یکم نے دنیا کو پہنچا دیئے۔آپ عظیم الشان کام ایک کامل شریعت کا سکھانا تھا جو تمام دنیا کے لئے رو واجب العمل ہو اور یہ کام بھی ہمارے نبی صلی یہ کام احسن طور پر بجالائے اور جن کاموں کی عملی شکل دکھانا مقصود تھی اپنی سنت سے آپ نے کر کے دکھا بھی دیئے۔تیر ا عظیم الشان کام جو آپ صلی الیہ کے بجالائے وہ احکام اور شریعت کا فلسفہ اور حکمت تھا جو آپ نے دنیا کو سکھایا۔سابقہ شریعتوں میں بعض دفعہ حکم دیا گیا مگر ان کی وجہ نہیں بتائی گئی۔اور