365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 10 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 10

درس القرآن 10 درس القرآن نمبر 86 دو الْعَلِيمُ وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ (البقرة: 128) ان آیات میں یہ مضمون چل رہا ہے کہ بنی اسرائیل اگر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل حضرت ابراہیم کے نیچے وارث ہونے کی وجہ سے ان وعدوں کے وارث ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے کئے تھے تو ان آیات میں یہ مضمون ہے کہ حضور صلی ال کی اور بیت اللہ اور اسلام حضرت ابراہیم کے حقیقی وارث ہیں اور حضرت ابراہیم سے آنحضرت صلی العلم بلند مقام رکھتے ہیں۔بنی اسرائیل کے پاس نہ کوئی قبلہ ہے جس کی بنیادیں حضرت ابراہیم نے اٹھائی ہوں، نہ کوئی ابراہیمی دعا ہے جو صرف بنی اسرائیل کے لئے ہو ، نہ کوئی وعدہ ہے جو صرف بنی اسرائیل کے لئے محدود ہو، بلکہ جہاں بنی اسرائیل کے لئے وعدے ہیں وہاں بنی اسماعیل کے لئے بھی زبر دست وعدے ہیں اور بنی اسرائیل کی کتاب میں اسرائیلی قبلہ کے لئے حضرت ابراہیم کے کسی کام کرنے کا کوئی ذکر نہیں جبکہ عربوں کی روایات میں اور قرآن شریف میں حضرت ابراہیم کے حضرت اسماعیل کے ساتھ مل کر بیت اللہ کی تعمیر کا ذکر ہے۔بنی اسرائیل کی کتب میں جو حضرت ابراہیم کی بنی اسرائیل کے اس قسم کی دعا کا ذکر نہیں جو بنی اسماعیل کے لئے پائی جاتی ہے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب ابراہیم اس خاص گھر کی بنیادوں کو استوار کر رہا تھا اور اسماعیل بھی یہ دعا کرتے ہوئے کہ اے ہمارے رب ہمارے طرف سے قبول کر لے یقینا تو ہی بہت سننے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔اور اے ہمارے رب ہمیں اپنے دو فرمانبر دار بندے بنادے اور ہماری طرف سے قبول کر لے۔یقیناً تو ہی بہت سننے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔اور اے ہمارے رب ہمیں اپنے دو فرمانبر دار بندے بنا دے اور ہماری ذریت میں سے بھی اپنی ایک فرمانبر دار امت پیدا کر دے اور ہمیں اپنی عبادتوں اور قربانیوں کے طریق سکھا اور ہم پر توبہ قبول کرتے ہوئے جھک جا۔یقینا تو بہت ہی توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔