365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 9 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 9

درس القرآن 9 درس القرآن نمبر 85 وَاذْ قَالَ ابْرُ هِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا مِنَّا وَارْزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ أَمَنَ مِنْهُمْ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ اَضْطَرَةَ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (البقرة:127) بنی اسرائیل کے اس اعتراض کے جواب میں کہ ابراہیمی وعدوں کی وجہ سے نبوت بنی اسرائیل میں ہونی چاہئے بنی اسماعیل میں سے نبی کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔گزشتہ آیت میں یہ جواب دیا تھا کہ بیت اللہ اور مکہ اور بنی اسماعیل بھی ابراہیمی وعدوں کے وارث ہیں اور بیت اللہ اور مکہ مقام ابراہیم ہیں جبکہ تم خود اپنے قبلہ کو خواہ وہ کوہ عیبال پر ہو، خواہ یروشلم میں ہو ابراہیمی قبلہ نہیں کہتے تو اس کے جواب میں بنی اسرائیل یہ کہہ سکتے تھے کہ کس طرح معلوم ہو کہ یہ مقامات ابراہیم اس مقام پر آئے تھے اور انہوں نے مکہ شہر کے لئے دعا کہ تھی کہ یہ بكدا بن جائے یعنی شہر بن جائے جبکہ اس وقت یہ جگہ ویرانہ تھی اور امنا شہر بن جائے، پر امن شہر ہو اور امن دینے والا شہر ہو اور تیری دعا یہ تھی کہ تازہ بتازہ پھل اس شہر کے رہنے والوں کو ملتے رہیں۔اب دیکھو کہ وہ ویرانہ دنیا کے معروف شہروں کی شکل اختیار کر گیا اور امن والا شہر بن گیا جس دور میں سارا عرب جنگوں اور لوٹ مار کرنے والوں کی آماجگاہ تھا اس وقت بھی مکہ کے شہر پر کوئی دشمن بھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا اور پھر اسی ویرانہ میں دنیا کے کناروں سے آم اور انگور اور اناس آتے ہیں۔اور فرمایا کہ ان نعمتوں سے صرف ایمان لانے والے نہیں بلکہ منکرین بھی فائدہ اٹھائیں گے۔اس آیت کا لفظی ترجمہ اس طرح ہے اور اس وقت کو بھی یاد کرو جب ابراہیم نے کہا تھا کہ اے میرے رب اس جگہ کو پر امن شہر بنادے اور اس کے باشندوں میں سے جو بھی اللہ اور آنے والے دن پر ایمان لائیں انہیں ہر قسم کے پھل عطا فرما اس پر اللہ نے فرمایا اور جو شخص کفر کرے اسے بھی میں تھوڑی مدت کے لئے فائدہ پہنچاؤں گا پھر اسے مجبور کر کے دوزخ کے عذاب کی طرف لے جاؤں گا اور یہ بہت برا انجام ہے۔