365 دن (حصہ دوم) — Page 73
درس القرآن 73 درس القرآن نمبر 133 وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَاخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ اَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقْتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقْتِلُوكُمْ فِيهِ فَإِنْ قَتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاء الْكَفِرِينَ فَإِنِ انْتَهَوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ (البقرة:193،192) ހ گزشتہ درس میں ذکر ہو چکا ہے کہ حج کے ذکر سے پہلے جنگ کے احکام بیان کر کے وضاحت کر دی کہ حج اور عمرہ کی فرضیت کی بناء پر تمہیں اے مسلمانو! مکہ میں داخل ہونے کے لئے جارحانہ جنگ کی اجازت نہیں۔لڑائی صرف ان سے کر سکتے ہو جو تم سے لڑتے ہیں، تم پر حملہ آور ہیں، آج کی آیت میں یہ بتایا کہ دشمن کی فوج سے مٹھ بھیڑ ہو تو قتل کی اجازت ہے، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔“اور حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جہاں کہیں بھی تمہاری اور ان کی جنگ کے ذریعہ سے مٹھ بھیڑ ہو جائے وہاں تم ان سے جنگ کرو۔یہ نہیں کہ اکاڈ کا ملنے پر حملہ کرتے پھرو۔" ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 424 مطبوعہ ربوہ) پھر فرمایا وَ اخْرِجُوهُهُ مِنْ حَيْثُ اَخْرَجُوكُمْ کہ انہوں نے تمہارے گھروں سے، تمہارے وطن سے ، تمہاری جائیدادوں سے، بغیر تمہارے کسی قصور اور جرم کے نکالا۔اس لئے اگر وہ حملہ آور ہو تو تمہیں بھی قانو نا اختیار ہے۔بے شک یہ قتل کی اجازت جو تمہیں دی جارہی ہے بڑا بھاری کام ہے مگر جو فتنہ وفساد تمہارے دشمنوں نے کیا تمہارے آدمی بے قصور قتل کئے تمہیں گھروں اور وطن سے نکالا۔تمہیں ہر قسم کے بنیادی حقوق سے محروم کیا یہ فتنہ جو انہوں نے شروع کیا اور مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔چند آدمیوں کے قتل سے زیادہ خطر ناک ہے اگر تمہارے دشمن یہ اعتراض کریں کہ تمہاری جنگ سے بیت اللہ کی بے حرمتی ہوئی ہے تو یاد رکھو اس کی ابتداء بھی تمہاری طرف سے نہیں ان کی طرف سے ہوئی ہے۔وَلَا تُقتِلُوهُم عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ تمہیں تو یہ بھی اجازت نہیں کہ مقدس مسجد کے