365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 72 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 72

درس القرآن 72 درس القرآن نمبر 132 وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (البقرة:191) رمضان کے روزوں کی عبادت کے احکام و ہدایات کے بعد بظاہر نظر حج و عمرہ کی عبادت کا ذکر مقصود تھا مگر اس سے پہلے قتال کا ذکر ہے جو بظاہر بے ربط معلوم ہوتا ہے مگر حقیقتاً اس میں بہت گہری ترتیب ہے۔اس آیت میں فرماتا ہے اللہ کی راہ میں صرف ان لوگوں سے لڑائی کرو جو تم سے لڑتے ہیں اور جارحیت کا ارتکاب نہ کرو اللہ تعالیٰ جارحیت کا ارتکاب کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اب رمضان کے بعد حج اور عمرہ کی عبادات کے ذکر سے پہلے یہ آیت لائی گئی ہے کہ ہر گزان لوگوں سے لڑائی نہ کرو جنہوں نے لڑنے میں تم سے سبقت کی ہے۔حج اور عمرہ کے بیان سے پہلے ایسے دشمن سے جو حملہ میں ابتداء نہیں کرتا، نہ لڑنے کا حکم دیا کیونکہ حج و عمرہ کی عبادت مکہ میں کی جاتی تھی اور مکہ والے باوجود اس کے کہ مکہ کی عبادتگاہوں کے متولی ہونے کے فرائض کے لحاظ سے اس بات کے پابند تھے کہ وہ کسی کو حج و عمرہ سے نہ روکیں، وہ دھاندلی کرتے ہوئے مسلمانوں کو روکتے تھے۔اس لئے لازما مسلمانوں کو یہ غلط فہمی ہو سکتی تھی کہ اب جو ان پر حج اور عمرہ فرض ہو چکا ہے وہ مکہ جانے اور اگر اس کے راستہ میں روک ہو تو لڑائی کے ذریعہ اپنا حق لینے کے مجاز ہیں اس لئے حج اور عمرہ کی فرضیت سے یہ نتیجہ نہ نکال لینا کہ تمہیں اب حملہ کرنے کی اجازت مل گئی ہے ، تمہیں لڑائی کی اجازت صرف انہی سے ہے جو تم سے لڑیں۔اس آیت میں اس غلط تصور کی پورے طور پر نفی ہے جو آج کل جہاد کے نام پر بعض لوگوں میں راسخ ہے اور پھر مزید زیادتی یہ ہے کہ جہاد کا یہ تصور ان کے خلاف نہیں جو علی الاعلان اپنے آپ کو غیر مسلم کہتے ہیں بلکہ ان کے خلاف جو علی الاعلان اپنے آپ کو مسلم کہتے ہیں تمام عقائد اسلام کا اقرار کرتے ہیں بلکہ یہ لوگ مسلمانوں کو پہلے غیر مسلم قرار دیتے ہیں پھر ان پر جارحانہ حملے کرتے ہیں، اللہ رحم کرے۔