365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 70 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 70

درس القرآن 70 درس القرآن نمبر 131 يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَقِّ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَ لكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (البقرة: 190) رمضان کی عبادت اور اس کے احکامات اور اس پر اعتراضات کا جواب دے کر اب حج کی عبادت کا ذکر شروع ہونے والا ہے۔اس سے پہلے جیسا کہ قرآن شریف کا طریق ہے۔ضمناً پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دیتا ہے۔اس آیت میں ابتدائی راتوں کے چاندوں کے بارہ میں سوال کا جواب دیا ہے کیونکہ رمضان کا تعلق بھی ان چاندوں سے ہے اور حج کا تعلق بھی ان چاندوں سے ہے۔اور بعض سابقہ بگڑے ہوئے مذاہب میں چاند کو دیوتا کا مقام دیا جاتا تھا اس لئے یہ خطرہ بھی ہو سکتا تھا کہ ان مذاہب سے آنے والے نئے مسلمان چاند کو رمضان اور حج کی عظیم عبادتوں سے تعلق کی وجہ سے کوئی غیر معمولی مقام نہ دے دیں۔جس طرح زرتشتی مذہب میں شعری ستارہ کو قریباً الوہیت کا درجہ دے دیا گیا تھا اس لئے رمضان کے ذکر کے بعد اور حج کے ذکر سے پہلے اس آیت میں اس خطرہ کو دور کر دیا گیا ہے، فرماتا ہے لوگ آپ سے نئی راتوں کے چاندوں کے بارہ میں سوال کریں گے تو یاد رکھو کہ ان کی حیثیت گھڑیوں کی ہے نہ وہ معبود ہیں نہ ان کو عبادات رمضان اور حج کی وجہ سے کوئی مقام الوہیت حاصل ہے تم کہو کہ یہ ابتدائی راتوں کے چاند صرف لوگوں کی سرگرمیوں کے اوقات کی تعیین کا ذریعہ ہیں اور حج کے متعد دار کان کے وقت کی تعیین بھی ان کے ذریعہ ہوتی ہے اس لئے ان گھڑیوں کو خدانہ بنالینا۔قرآن مجید کے اس بنیادی مضمون کو جو توحید کا مضمون ہے اور جس کو قرآن شریف کئی رنگ میں بار بار بیان کرتا ہے یہاں ایک بڑی زبر دست دلیل کو بڑے سادہ الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے اور وہ دلیل یہ ہے وَلَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا کہ یہ کوئی نیکی نہیں کہ گھروں میں دیواروں پر سے کود کر نہ جایا کرو بلکہ گھروں میں گھروں کے دروازہ میں سے جاؤ۔بلکہ نیکی اسی کی ہے جو تقویٰ اختیار کرے اور