365 دن (حصہ دوم) — Page 60
درس القرآن درس القرآن نمبر 124 60 ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة:184) فرماتا ہے اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جس طرح ان لوگوں پر فرض کئے گئے تھے جو تم سے پہلے تھے یعنی یہ کوئی ایسا بوجھ نہیں جو تم پر ڈالا جارہا ہے۔تمام مذہبی سلسلوں میں جن کی تعلیم خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی تھی روزوں کی عبادت مقرر کی گئی تھی۔گویا یہ عبادت مذہبی دنیا کے بنیادی اور دائمی ارکان میں سے ہے لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ یہ عبادت تمہیں دکھ میں ڈالنے کے لئے نہیں خود تمہارے فائدہ کے لئے ہے۔تمہاری جسمانی اور روحانی ترقیات کے لئے ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔“روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے۔انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اسی قدر تزکیہ نفس ہوتا ہے اور کشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔" (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 102 مطبوعہ ربوہ) لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ میں صرف روحانی شفاء اور ترقیات کی طرف اشارہ نہیں بلکہ جسمانی وو بہتری اور شفاء کی طرف بھی اشارہ ہے ، اس بارہ میں حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہیں:۔آجکل کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بڑھاپا یا ضعف آتے ہی اس وجہ سے ہیں کہ انسان کے جسم میں زائد مواد جمع ہو جاتے ہیں اور ان سے بیماری یا موت پیدا ہوتی ہے۔تھکان اور کمزوری وغیرہ جسم میں زائد مواد جمع ہونے ہی سے پیدا ہوتی ہے۔اور روزہ اس کے لئے ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 375 مطبوعہ ربوہ) بہت مفید ہے۔" پھر فرماتے ہیں:۔“ اسی طرح روزوں کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ مومنوں کو ایک مہینہ تک اپنے جائز حقوق کو بھی ترک کرنے کی مشق کرائی جاتی ہے۔انسان گیارہ مہینے حرام چھوڑنے کی مشق کرتا ہے مگر بارہویں مہینہ میں وہ حرام نہیں بلکہ حلال چھوڑنے کی مشق کرتا ہے۔یعنی روزوں کے علاوہ دوسرے ایام میں ہم یہ نمونہ دکھاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کیلئے ہم کس طرح حرام چھوڑ سکتے ہیں۔مگر روزوں کے ایام میں ہم یہ نمونہ دکھاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے لئے کس طرح حلال چھوڑ سکتے ہیں۔" ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 380 مطبوعہ ربوہ)