365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 61 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 61

درس القرآن 61 درس القرآن نمبر 125 اَيَّامًا مَّعْدُودَت فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ (البقرة: 185) و رووود دوور إن كنتم تعلمون رمضان المبارک میں روزے رکھنے کے ارشاد کے بعد فرمایا یہ بوجھ کوئی ایسا بوجھ نہیں جو انسانی طاقت سے باہر ہو گنتی کے چند دن ہیں سارا سال یا ساری زندگی کے لئے حکم نہیں۔ہاں بیمار کے لئے یا مسافر کے لئے بوجھ ہو سکتا ہے اس لئے جو بیمار ہو یا سفر پر ہو وہ دوسرے دنوں میں روزہ رکھ کر گنتی پوری کر سکتا ہے وَعَلَى الَّذِيْنَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنِ لیکن ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو دائمی طور پر اس ذمہ واری کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے تو وہ ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ کے دیں۔فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ بے شک روزہ رکھنا ایک بوجھ نظر آتا ہے مگر جو شخص پوری بشاشت اور ذوق کے ساتھ نیکی کا کام کرتا ہے تو وہ نیکی اس کے لئے نیک نتائج پیدا کرنے والی ہو گی وَ اَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ اور تمہارا روزے رکھنا تمہیں تکلیف دینے کے لئے نہیں بلکہ سراسر تمہارے فائدے کے لئے ہے اِن كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ اگر تم علم رکھتے ہو۔حضرت مصلح موعودؓ اس آیت میں الفاظ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مسکین کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔“ ایک اور معنے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھ پر کھولے ہیں وہ یہ ہیں کہ يُطِيقُونَ میں ڈا کی ضمیر روزہ کی طرف پھرتی ہے اور مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جن کی بیماری شدید ہے یا جن کا سفر پر مشقت ہے وہ تو بہر حال فَعِدَّةٌ مِنْ آيَامٍ اُخَرَ کے مطابق دوسرے ایام میں روزے رکھیں گے۔لیکن وہ لوگ جو کسی معمولی مرض میں مبتلا ہیں یا کسی آسانی سے طے ہونے والے سفر پر نکلے ہیں اگر وہ طاقت رکھتے ہوں تو ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ بھی دے دیا کریں۔اس وجہ سے کہ ممکن ہے انہوں نے روزہ چھوڑنے میں غلطی کی ہو۔وہ اپنے آپ کو بیمار سمجھتے ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی بیماری ایسی نہ ہو کہ وہ روزہ ترک کر سکیں۔یاوہ اپنے آپ کو