365 دن (حصہ دوم) — Page 39
درس القرآن 39 درس القرآن نمبر 108 إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَابِدِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ تَطَوَّفَ بِهِمَا وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ (البقرة:159) گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ سابقہ مذاہب اور سابقہ قبلے چھوڑنے پر اسلام لانے والوں کو بہت سی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑے گا، بہت سی قربانیاں دینا پڑیں گی، بہت سے دکھ اٹھانے پڑیں گے ، اس لئے مسلمانوں کو صبر اور دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا چاہیئے اور اس سے مددمانگنی چاہیئے۔اس آیت میں ایک عظیم الشان قربانی کی طرف اشارہ ہے جو ایک عمر رسیدہ نبی نے بھی کی، ایک نوجوان عورت نے بھی کی اور ایک بچہ نے بھی کی۔اور جس قربانی کے نتیجہ میں مکہ جیسی بستی میں ہمارے نبی صلی ال یکم کی بعثت ہوئی۔یہ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تھی۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور اپنے پلوٹھے بچے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بے آب و گیاہ اور بے آباد وادی میں چھوڑ آئے۔ایک مشکیزہ پانی اور ایک تھیلی کھجوروں کی دے کر۔اور خود واپس وطن چلے گئے۔اس عظیم الشان قربانی کے موقعہ پر جب چھوٹی عمر کے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیاس سے بے حال ہو رہے تھے ، حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے صفا اور مروہ کے درمیان پانی اور کسی آدمی کی تلاش میں چکر لگائے اور اللہ تعالیٰ نے زمزم کے ذریعہ ان کے پانی کا انتظام فرمایا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صفا اور مروہ اللہ کے نشانات میں سے ہیں پس جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ تو کوئی گناہ نہیں ہو گا کہ وہ صفا و مروہ کا طواف بھی کرے اور جو نفلی طور پر یہ نیکی کرنا چاہے تو وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ قدردان بھی ہے اور خوب جاننے والا بھی ہے۔