365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 206 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 206

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 69 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔206 متقی کون ہیں؟ خدا کے کلام سے پایا جاتا ہے کہ متقی وہ ہوتے ہیں جو حلیمی اور مسکینی سے چلتے ہیں۔وہ مغرورانہ گفتگو نہیں کرتے۔ان کی گفتگو ایسی ہوتی ہے جیسے چھوٹا بڑے سے گفتگو کرے۔ہم کو ہر حال میں وہ کرنا چاہیئے۔جس سے ہماری فلاح ہو۔اللہ تعالیٰ کسی کا اجارہ دار نہیں۔وہ خاص تقویٰ کو چاہتا ہے جو تقویٰ کریگا وہ مقام اعلیٰ کو پہنچے گا۔آنحضرت صلی للی کم یا حضرت ابراہیم علیہ السلام میں سے کسی نے وراثت سے تو عزت نہیں پائی۔گو ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی الی ظلم کے والد ماجد عبد اللہ مشرک نہ تھے ، لیکن اس نے نبوت تو نہیں دی۔یہ تو فضل الہی تھا۔ان صدقوں کے باعث جو ان کی فطرت میں تھے۔یہی فضل کے محرک تھے حضرت ابراہیم علیہ اسلام جو ابوالا نبیا تھے ، انہوں نے اپنے صدق و تقویٰ سے ہی بیٹے کو قربان کرنے میں دریغ نہ کیا۔خود آگ میں ڈالے گئے۔ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی ا لی ایم کا ہی صدق و وفا دیکھئے۔آپ نے ہر ایک قسم کی بد تحریک کا مقابلہ کیا۔طرح طرح کے مصائب و تکالیف اٹھائے ، لیکن پروانہ کی۔یہی صدق و وفا تھا، جس کے باعث اللہ تعالی نے فضل کیا۔اسی لیے تو اللہ تعالے نے فرمایا إِنَّ اللهَ وَمَلَيكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب : 57) ترجمہ : اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے رسول پر درود بھیجتے ہیں۔اے ایمان والو ! تم درود و سلام بھیجو نبی پر۔اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی لی نام کے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالٰی نے ان کی تعریف یا اوصاف کی تحدید کرنے کے لئے کوئی لفظ خاص نہ فرمایا۔لفظ تو مل سکتے تھے ، لیکن خود استعمال نہ کیے۔یعنی آپ کے اعمال صالحہ کی تعریف تحدید سے بیرون تھی۔اس قسم کی آیت کسی اور نبی کی شان میں استعمال نہ کی۔آپ کی روح میں وہ صدق و وفا تھا اور آپ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکر گزاری کے طور پر درود بھیجیں۔آپ کی ہمت وصدق وہ تھا کہ اگر ہم اوپر یا نیچے نگاہ