365 دن (حصہ دوم) — Page 134
درس حدیث 134 درس حدیث نمبر 62 عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ۔۔۔قَالَ سَمِعْتُ النَّبِالله يَقُولُ نَضَّرَ اللَّهُ امْرَةٌ سَمِعَ مِنَّا شَيْئًا فَبَلَّغَهُ كَمَا سَمِعَهُ ( ترمذی کتاب العلم باب الحث على تبليغ السماع حدیث نمبر 2657) ہماری جماعت کی تعلیم کی اصل بنیاد قرآن شریف پر ہے، اس کے بعد ہمارے نبی صلی ا ظلم کی سنت پر۔پھر احادیث ان دونوں بنیادی چیزوں کے لئے گواہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور قرآن مجید اور سنت کی تعلیمات کو سمجھانے اور تشریح کرنے کے لئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا۔آپ کے خلفاء کرام اللہ تعالیٰ کے القاء سے جماعت کی علمی رہنمائی کرتے ہیں۔یہ رہنمائی جہاں تحریر کی شکل میں ہوتی ہے وہاں زبانی سوالات کی شکل میں بھی ہوتی ہے اسی طرح جماعت کی تاریخ بھی زبانی روایات کی شکل میں ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچی ہے۔یہ روایات چونکہ زبانی چلتی ہیں اور ان کی بنیاد ہی حافظہ پر ہوتی ہے اس لئے اس میں غلطی یا غلط فہمی کا امکان ہو سکتا ہے۔اس لئے روایت کے بیان کرنے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔جو حدیث آج کے درس میں پیش کی جارہی ہے اس میں یہ مضمون بھی ہے۔حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی العلیم سے سنا، آپ فرمارہے تھے نَضَّرَ اللهُ امْرَ اللہ اس شخص کو ترو تازہ رکھے سَمِعَ مِنَّا شَيْئًا جس نے ہم سے کوئی بات سنی فَبَلَغَهُ كَمَا سَمِعَہ اور جس طرح اس نے وہ بات سنی اسی طرح ہی آگے پہنچائی۔اس حدیث میں ور علی ایم نے بڑی پیاری دعا اس شخص کو دی ہے جو جس طرح بات سنتا ہے اسی طرح ٹھیک حضور الله ٹھیک بغیر کسی کمی بیشی کے آگے پہنچاتا ہے۔