365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 135 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 135

درس حدیث 135 درس حدیث نمبر 63 حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ ﷺ نے فرمایا: عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيْمَا حَبٌ وَكَرِهَ إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ (مسلم کتاب الامارة باب وجوب طاعة الامراء فى غير معصية و تحريمها في المعصية حديث نمبر 4763) بعض دفعہ یہ افسوسناک بات دیکھنے میں آتی ہے بعض لوگ اس وقت تک بڑے ذوق و شوق سے ذمہ وار عہدیداروں کی فرمانبرداری کرتے ہیں کہ جب وہ حکم یا فیصلہ جو دیا جارہا ہے ان کی پسند کے مطابق ہو مگر جب کوئی ایسا حکم ہو یا ایسا فیصلہ ہو جو انہیں نا پسند ہو تو ادھر اُدھر کے بہانے بنانے لگتے ہیں۔ہمارے نبی صلی اللہ علم کی یہ تعلیم نہیں جو حدیث پڑھی گئی ہے اور حضرت عمرؓ کے بیٹے حضرت عبد اللہ سے مروی ہے جس میں ہمارے نبی صلی یکلم نے صاف صاف ارشاد فرمایا ہے کہ ایک مسلمان پر حکم اور فیصلہ کا سنا اور پھر اس کی اطاعت کرنالازمی ہے صرف ایک صورت ہے کہ واضح طور پر وہ حکم کسی گناہ کا حکم ہو اور کوئی شبہ نہ ہو کہ یہ حکم اسلام کی تعلیم کے صریحاً خلاف ہے اگر وہ اپنی پسند کا ہو انسان کو اچھا لگتا ہو تب بھی اس کی اطاعت لازمی ہے اور اگر وہ حکم شخصة انسان کو پسند نہ ہو اس کی مرضی کے مطابق نہ ہو تب بھی اس کی اطاعت ضروری ہے۔یہ صاف بات ہے کہ انسان دنیا میں اکیلا نہیں رہ سکتا انسان کی زندگی کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ اس کو حاصل ہی نہیں ہو سکتیں اگر وہ تن تنہا زندگی گزار رہا ہو۔انسان کو زندہ رہنے کے لئے کھانے پینے کی ضرورت ہے ، لباس کی ضرورت ہے ، مکان کی ضرورت ہے ، علاج کی ضرورت ہے اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ حاصل کرنے کے لئے انسانوں کو مل جل کر رہنا پڑتا ہے اور مل جل کر رہنے کی صورت میں انسان ایک نظام کا محتاج ہے۔اگر کوئی نظام نہ ہو ، کوئی قانون نہ ہو یا نظام اور قانون کی پابندی نہ ہو تو مل جل کر رہنے کا جو مقصد ہے اس میں ہزار خرابیاں پید اہوں گی۔اس لئے ہمارے نبی صلی ا ہم نے انسان کے مل جل کر رہنے کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے نظام کی اطاعت اور قانون کی پابندی کو لازمی قرار دیا ہے۔