365 دن (حصہ دوم) — Page 130
درس حدیث 130 درس حدیث نمبر 58 رض حضرت ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی نیلم نے فرمایا: صَلوةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلوةَ الْفَكِّ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ( بخاری کتاب الاذان باب فضل صلاة الجماعة وكان الأسود۔۔۔حديث نمبر 646) ایک شخص کی زندگی کے دو پہلو ہیں ایک پہلو اس کی اپنی زندگی کا ہے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ ایک معاشرہ کا ایک سوسائٹی کا حصہ ہے جس میں اس کے تعلقات دوسرے لوگوں سے قائم ہوتے ہیں۔ایک انسان کی اپنی زندگی میں بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں، کچھ ضرور تیں ہیں، کچھ کام اس کو اپنی ذاتی زندگی کے بارہ میں بھی کرنے پڑتے ہیں اور کچھ ذمہ واریاں انسان کی لوگوں سے تعلقات وجہ سے بھی پڑتی ہے اس کو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ، اپنے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ ، اپنے محلہ والوں کے ساتھ ، ہم سایوں کے ساتھ ، شہر والوں کے ساتھ ، اپنے ملک والوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے ذمہ واریاں ادا کرنا پڑتی ہیں۔اسلام نے جو تعلیم ایک انسان کو دی ہے اس کے بھی یہی دو پہلو ہیں۔بعض احکامات ور بعض چیزوں سے رکنے کا حکم ایک انسان کی ذات سے تعلق رکھتا ہے اور بعض احکامات اور بعض چیزوں سے رکنے کا حکم ایک شخص کے دوسروں سے تعلقات کی وجہ سے ہے۔عبادت کے بارہ میں جو حکم ہیں وہ بھی دو طرح کے ہیں۔بعض عباد تیں ایک آدمی کی ذاتی عبادتیں ہیں۔وہ رات کو اٹھتا ہے ، وضو کرتا ہے، نفل پڑھتا ہے، باقی دنیا کو اس کا پتہ بھی نہیں لگتا۔دوسری طرف ایک مرد کو یہ حکم ہے کہ پانچ وقت اپنے محلہ کی مسجد میں نماز باجماعت ادا کرے، جمعہ کے دن شہر کے لوگوں کے ساتھ جمعہ ادا کرے، سال میں دو دفعہ اپنے علاقہ کے لوگوں کے ساتھ عیدین کی نماز پڑھے۔توفیق ہو تو حج کے لئے مکہ جاکر ملک ملک کے لوگوں کے ساتھ عبادت میں شریک ہو۔الگ تنہائی میں اکیلے نماز پڑھنے کی برکتیں بھی ہیں۔مگر دن میں پانچ دفعہ اپنے محلہ کے لوگوں کے ساتھ باجماعت نماز کی اپنے برکتیں ہیں اس لئے جو نماز با جماعت ادا کی جاتی ہے اس کے متعلق ہمارے نبی صلی للی کرم نے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ نماز اکیلے نماز سے 25 درجہ زیادہ ہے۔