365 دن (حصہ دوم) — Page 120
درس حدیث 120 درس حدیث نمبر 49 حضرت ابو برزة بیان کرتے ہیں اَنَّ رَسُولَ الله صل الله كَانَ يَكْرَهُ الثَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا کہ رسول الله صلى الله علم عشاء کی نماز ادا کرنے سے پہلے سو جانا نا پسند فرماتے تھے اور عشاء کی نماز کے بعد ( غیر ضروری باتیں کرنا نا پسند فرماتے تھے۔( بخاری کتاب مواقیت الصلوة باب ما يكره من النوم قبل العشاء حديث نمبر 568) ہمارے نبی صلی ا نام کے طریق عمل کی یہ حدیث ہمارے دین اور ہماری دنیا کی خیر و بھلائی کے مضمون سے بھری پڑی ہے۔اور اس مختصر سی حدیث میں ان دونوں بھلائیوں کا ذخیرہ ہے۔ہماری دینی بھلائی کے لئے نماز چوٹی کا عمل ہے قرآن شریف نے ایمان کے بعد اعمال میں جس عمل پر سب سے زیادہ زور دیا ہے وہ نماز ہے۔اور ہمارے نبی صلی الی یکم نے فرمایا ہے کہ فجر اور عشاء یہ دونوں نمازیں منافقین پر بہت بھاری ہیں۔( بخاری کتاب الاذان باب فضل صلاة العشاء فى الجماعة حديث نمبر 657) تو ہماری دینی بھلائی کے لئے نماز نہایت ضروری اور اہم چیز ہے اور اس کو پڑھے بغیر سو جانا یہ خطرہ پیدا کرتا ہے کہ شاید آدمی صبح تک سو تار ہے اور نماز رہ ہی جائے۔دنیا کی ایک بہت بڑی بھلائی کا ذکر بھی اس حدیث میں ہے۔صحت دنیا کی نعمتوں میں سے بہت بڑی نعمت ہے اور آج کی دنیا میں لوگوں نے جو تمدن اختیار کیا ہوا ہے بعض سائنسدان یہ کہتے ہیں کہ آدھی رات سے پہلے کی ایک گھنٹہ نیند اپنے فائدہ اور آرام کے لحاظ سے آدھی رات کے بعد کی دو گھنٹہ کی نیند کے برابر ہے۔اور پھر جلدی سونے کا دینی فائدہ بھی زبر دست ہے کہ انسان تہجد کی نماز کے لئے جاگ سکتا ہے فجر کی نماز کے لئے تازہ دم ہو کر کھڑا ہو سکتا ہے۔اب دیکھیں کہ ہمارے نبی کریم صلی نیا کی کسی چیز کے لئے نا پسندیدگی انسان کے کے لئے کتنی نقصان دہ ہے۔اور آپ کا کسی چیز کو پسند کرنا انسان کے دینی اور دنیوی فائدہ کے لئے کتنا اچھا ہے۔