365 دن (حصہ دوم) — Page 121
درس حدیث 121 درس حدیث نمبر 50 حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الله عزو جل قیامت کے دن فرمائے گا يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تعذني کہ اے ابن آدم میں بیمار ہوا مگر تم نے میری عیادت نہ کی قَالَ يَا رَبِّ كَيْفَ أعُوْدُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِینَ وہ بندہ کہے گا اے میرے رب میں کیسے تیری عیادت کرتا اور تورب العالمین ہے۔قال اللہ فرمائے گا أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فَلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدَهُ کیا تمہیں پتہ نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تو نے اس کی عیادت نہ کی أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِيْ عِنْدَه! کیا تمہیں علم نہیں تھا کہ اگر تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے اس کے پاس پاتے يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا چاہا مگر تم نے مجھے کھانا نہ کھلایا قَالَ يَا رَبِّ كَيْفَ أطْعِمُكَ وَأنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ وہ بندہ کہے گا اے میرے رب میں تجھے کیسے کھلاتا اور تو رب العالمین ہے؟ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ اللہ کہے گا کیا تمہیں علم نہیں تھا کہ تم سے میرے فلاں بندہ نے کھانا مانگا مگر تم نے اسے کھانا نہ کھلایا أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذالك عِنْدِي کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اگر تم اس کو کھانا کھلاتے تو (اس کی جزاء) میرے پاس پاتے يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِی اے میرے بندے میں نے تجھ سے پینے کو مانگا مگر تم نے مجھے نہ پلایا قَالَ يَا رَبِّ كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ وہ بندہ کہے گا اے میرے رب میں تجھے کیسے پلاتا اور تو رب العالمین ہے ؟ قَالَ اسْتَسْقَاكَ عَبْدِيْ فُلَانٌ فَلَمْ تنقم اللہ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پینے کو مانگا مگر تم نے اس کو نہ پلایا اما عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْسَقَيْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَالِكَ عِنْدِي کیا تمہیں پتہ نہیں کہ اگر تم اس کو پلاتے تو (اس کا اجر ) میرے پاس پاتے۔مسلم کتاب البر والصلة والآدب باب فضل عيادة المريض حديث نمبر 6556)