365 دن (حصہ دوم) — Page 8
درس القرآن 8 درس القرآن نمبر 84 وَاذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَآمَنَّا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّابِفِينَ وَالْعَكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ ( البقرة : 126) بنی اسرائیل کے اس اعتراض کا ہم حضرت ابراہیم کی اولاد ہیں اور ابراہیمی وعدوں کی وجہ سے صرف ہم ہی نبوت کے مستحق ہیں جواب جاری ہے کہ بنی اسماعیل اور مکہ اور بیت اللہ حضرت اسماعیل کے ذریعہ حضرت ابراہیم کا ورثہ ہے۔یہاں بنی اسماعیل اور مکہ اور اسلام کے ابراہیمی ورثہ ہونے کی ایک زبر دست دلیل بنی اسرائیل کے مقابلہ میں یہ دی ہے کہ بنی اسرائیل کا جو قبلہ بائبل کی رو سے حضرت موسیٰ نے مقرر کیا تھا یعنی کوہ عیبال پر اس کا بھی حضرت ابراہیمؑ سے کوئی تعلق بنی اسرائیل کی اپنی کتابوں یا روایات سے ثابت نہیں ہوتا اور پھر بعد میں جب موسوی شریعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنی اسرائیل نے یروشلم کو قبلہ بنالیا اس کا بھی کوئی تعلق حضرت ابراہیمؑ سے بنی اسرائیل کی کتابوں اور روایات میں ثابت نہیں۔مگر وہ بیت اللہ جو مکہ میں ہے جو رسول اللہ صلی علیم کا قبلہ ہے وہ ابراہیمی یاد گار ہے اور اسی وجہ سے مثابَةً لِلنَّاسِ یعنی لوگوں کے بار بار اکھٹی ہونے کا مقام ہے اور حضرت ابراہیم کی دعا کی وجہ سے امن کا مقام ہے اور یہ وہ مقام ہے ابراہیمی تعلق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس کو نماز کی جگہ بناؤ اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل دونوں کو اللہ تعالیٰ نے تاکید فرمائی تھی کہ یہ میراگھر ہے اس کی روحانی اور ظاہری صفائی کا سامان کرو کیونکہ ساری دنیا سے یہاں طواف کرنے والے بھی آئیں گے ، اعتکاف کرنے والے بھی آئیں گے ، رکوع و سجود کے ذریعہ عبادت کرنے والے بھی آئیں گے مگر بنی اسرائیل کے کسی قبلہ کو خواہ یہود کا قبلہ ہو یا نصاری کا قبلہ ہو یہ ابراہیمی تعلق حاصل نہیں تم تو اپنے قبلوں کے متعلق ایسا کوئی دعویٰ بھی نہیں کرتے۔اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے اور جب ہم نے اپنے گھر کو لوگوں کے بار بار اکھٹا ہونے کی اور امن کی جگہ بنایا اور ابراہیم کے مقام میں نماز کی جگہ پکڑو اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں (اور) سجدہ کرنے والوں کے لئے خوب پاک صاف بنائے رکھو۔