365 دن (حصہ دوم) — Page 114
درس حدیث 114 درس حدیث نمبر 44 حضرت عبد اللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق نے نبی صلی للی نام سے عرض کیا کہ یارسول اللہ مجھے کوئی دعا سکھائے جو میں اپنی نماز میں کیا کروں۔آپ نے فرمایا کہو: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْلِيْ مِنْ عِنْدِكَ مَغْفِرَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ( بخاری کتاب التوحید باب قول الله تعالى و كان الله سميعا بصير حديث نمبر 7388،7387) کہ اے میرے اللہ میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا اور تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشا تو مجھے اپنی جناب سے مغفرت عطا فرما۔یقینا تو ہی بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔یہ ایک بہت ہی لطیف دعا مغفرت کے لئے ہے قرآن شریف فرماتا ہے کہ اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت مانگو اور یاد رکھو کہ اللہ تمام گناہ بخش دیتا ہے اور یہ بھی فرماتا ہے کہ گناہ بخشنے کی صفت خاص خدا تعالیٰ کی صفت ہے کوئی بھی اس کے سوا یہ اختیار نہیں رکھتا کہ گناہ بخشتا پھرے۔اور یہ نہیں کہ خدا تھوڑا گناہ بخش کر پھر اگلی جون میں سزا دینے کے لئے رکھ لیتا ہے۔وہ پوری طرح ہر گناہ کو بخش دیتا ہے اگر بخشش مانگنے والا دیانت داری کے اخلاص کے ساتھ دعامانگ رہا ہے صرف ہونٹوں کی بڑبڑاہٹ نہیں ہے اس کی دائمی صفت غفور اور رحیم ہے وہ بہت بخشنے والا ہے اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔