365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 107 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 107

درس القرآن درس القرآن نمبر 154 107 مذاہب کے اختلاف کے بارہ میں ایک سوال کا جواب کل کے درس میں دیا گیا تھا آج کی آیت میں ایک دوسرے سوال کا جواب دیا گیا ہے ، فرماتا ہے : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيب (البقرة: 215) آج کا سوال یہ ہے کہ اختلاف مذاہب کے نتیجہ میں نئے سچے مذہب کے ماننے والوں کو ابتلاؤں اور امتحانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔اس آیت میں ان ابتلاؤں کی طرف اشارہ ہے جو مسلمانوں پر آنے والے تھے۔چونکہ اس سے پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ جب دنیا پر ضلالت چھا جاتی ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی آتا ہے جس کی لوگ مخالفت کرتے ہیں۔اس لئے اب فرماتا ہے کہ تم یہ مت سمجھو کہ بغیر ابتلاؤں کے تم ترقی کر جاؤ گے۔تمہاری ترقی ابتلاؤں کے آنے پر ہی موقوف ہے جیسا کہ پہلوں کی ترقی کا باعث بھی ابتلاء ہی ہوئے۔چنانچہ اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مستهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاء وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نصر اللہ انہیں مالی مشکلات بھی پیش آئیں اور جانی بھی اور وہ سر سے پاؤں تک ہلا دیئے گئے اور ان پر اسقدر ابتلاء آئے کہ آخر اس وقت کے رسول اور مومنوں کو دُعا کی تحریک پید اہو گئی اور وہ پکار اُٹھے کہ اسے خدا تیری مدد کہاں ہے۔اس آیت کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کے پاک بندے بھی کسی وقت اللہ تعالیٰ کی مدد سے ایسے مایوس ہو جاتے ہیں کہ انہیں متى نصر اللہ کہنا پڑتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ جس مایوسی کا تصور بادی النظر میں پیدا ہوتا ہے اس سے انبیاء اور ان پر ایمان لانے والے کلیۂ پاک ہوتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّهُ لَا يَايْسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفُرُونَ (یوسف آیت 88) کہ صرف کافر ہی خدا تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہوتے ہیں۔بات یہ ہے کہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جب متی کا لفظ بولیں تو اس سے مراد مایوسی نہیں ہوتی بلکہ تعین کے لئے ایک درخواست ہوتی ہے