365 دن (حصہ دوم) — Page 106
درس القرآن 106 درس القرآن نمبر 153 كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللهُ النَّبِينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَ انْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُم بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ وَمَا اخْتَلَفَ فِيْهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتُهُمُ الْبَيِّنْتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ وَاللَّهُ يَهْدِى مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (البقرة:214) مذہب اسلام کی تعلیم اور احکامات ، عبادات و ارکان کے ذکر پر لازماًیہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ مذاہب میں یہ اختلاف کیوں ہے اور اس اختلاف میں کون حق پر ہے۔اس اہم سوال کو اس آیت میں تفصیل سے حل کیا گیا ہے، فرماتا ہے گانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً کہ لوگوں میں جب بگاڑ پید اہوتا ہے اور سب لوگوں میں سچے خدا سے بے تعلقی پید اہو کر ساری قوم قومی انبیاء سے پہلے یا ساری دنیا ہمارے نبی صلی علیم سے پہلے گمراہی کا ایک رنگ پید ا ہو جاتا ہے۔فَبَعَثَ اللهُ النَّبِيَّنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ تو اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت جوش میں آتی ہے اور وہ بشارت دینے اور ڈرانے کے لئے نبی بھیجتا ہے وَ انْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ اور حق و صداقت سے بھری ہوئی شریعت ان کے ساتھ ہوتی ہے خواہ وہ پہلے شرعی نبی کی شریعت ہو یا نئی شریعت ہوتی ہے۔لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِیهِ تا کہ جو لوگوں کے درمیان اس اختلاف کے بارہ میں فیصلہ کرے جو لوگوں نے دائمی مذہبی صداقتوں اور اصولوں سے کیا ہو تا ہے۔حالانکہ ان کا یہ اختلاف کسی صداقت، کسی اصول، کسی تحقیق پر مبنی نہیں ہو تا بلکہ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أوتُوهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنْتُ بَغْيًا بَيْنَهُم بلکہ ان کا یہ اختلاف اس شریعت سے جو ان کو دی گئی روشن دلائل کے ان کے پاس آنے کے بعد ہوتا ہے اور اس کا محرک علمی تحقیق نہیں بلکہ باہمی سرکشی ہوتی ہے تو فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهِ اس لئے اللہ نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہدایت دی کیونکہ انہوں نے جو اس میں اختلاف کیا وہ اللہ کی اجازت سے تھا اور صداقت پر مبنی تھا کیونکہ وَاللهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إلى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ اللہ ہی ہے جو سیدھے راستہ کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔