365 دن (حصہ دوم) — Page 7
درس القرآن 7 درس القرآن نمبر 83 وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَةٍ فَاتَتَهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ (البقرة:125) جیسا کہ گزشتہ درس میں بیان ہوا بنی اسرائیل کی دونوں شاخوں یہود و نصاریٰ کے اس اعتراض کہ نبوت کا سلسلہ ان کی قوموں سے لے کر بنی اسماعیل میں منتقل کیوں کیا جبکہ وہ حضرت ابراہیم کے وارث ہیں اور حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے ان کے ورثاء کے بارہ میں بشارتیں دی تھیں۔اس اعتراض کے جواب میں بڑا زور دار جواب دیتا ہے کہ اوّل تو حضرت ابراہیم کو مفت میں ہی بلند مقام نہیں مل گیا تھا ان کے رب نے ان کو آزمایا تھا اور صرف ایک بات میں نہیں بلکہ کئی باتوں میں آزمایا ان کی ذات میں بھی ان کو آزمایا گیا ان کی بیوی کی ذات میں بھی ان کے بچوں کے ذریعے بھی فاتتهنّ اور حضرت ابراہیم نے ان سب کو پورا کر دیا ہر ابتلاء اور امتحان میں وہ کامیاب اترے۔مگر یہ بنی اسرائیل جو اپنی محرومی کا شکوہ کرتے ہیں ہر امتحان میں ناکام اتر رہے ہیں، فرمایا ہے۔حضرت ابراہیم کو بشارت ملی کہ میں تم کو امام بنانے والا ہوں۔چنانچہ آج کی دنیا کی غالب اکثریت یہودی بھی، نصاریٰ بھی، مسلمان بھی ان کو اسوہ اور مقتداء تسلیم کرتے ہیں مگر انہوں نے خود دعا کی تھی وَمِنْ ذُرِّيَّتِي کہ میری نسل میں بھی یہ سلسلہ امامت جاری رہے تو اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرما دیا تھا لا يَنَالُ عَهْدِى الظلمین کہ میرا یہ عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔اس لئے یہ کہنا کہ حضرت ابراہیم کی نسل سے ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم سے کئے گئے وعدوں میں حصہ دار ہیں، بالکل غلط خیال ہے۔یہ بنی اسرائیل ظالم ہو چکے ہیں۔نصاریٰ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں ظالم ہو چکے ہیں کیونکہ شرک سے بڑا ظلم کوئی نہیں جس کے وہ مر تکب ہیں اور ایک کمزور انسان کو خدا بنائے بیٹھے ہیں اور یہودی بھی ظالم ہو چکے ہیں جو حقوق انسانی تلف کرنے کے مرتکب ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ ابراہیمی وعدے صرف بنی اسرائیل کے لئے نہیں تھے، حضرت ابراہیم کی تمام اولاد سے تھے اور بنی اسماعیل بھی حضرت ابراہیم کی اولاد ہیں بلکہ ان کے بڑے بیٹے کی اولاد ہیں جو بائبل کی رو سے زیادہ بلند مقام رکھتا ہے اس لئے یہ اعتراض ہی غلط ہے کہ ابراہیم کی اولاد کو ان وعدوں سے محروم کیا جا رہا ہے جو حضرت ابراہیم سے کئے گئے تھے۔