365 دن (حصہ دوم) — Page 97
درس القرآن 97 اندر پیدا کرنی چاہیے اور سمجھانے والے کی بات کو ٹھنڈے دل سے سُننا چاہیے۔وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ سمجھانے والا احتیاط سے کام لے۔یہ نہ ہو کہ وہ جس کو چاہے لوگوں میں ذلیل کر نا شروع کر دے۔اس مثال کو حج کے ساتھ اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ حج کی بڑی غرض قومی تفرقوں کو مٹاکر اتفاق و اتحاد اور محبت و یگانگت کے تعلقات کو بڑھانا ہے۔مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دنیا میں لڑتے جھگڑتے اور فساد پیدا کرتے رہتے ہیں۔انہیں متوجہ کیا گیا ہے کہ جب خد اتعالیٰ ساری دنیا کو ایک مرکز پر جمع کرنا چاہتا ہے تو انہیں بھی چاہیے کہ وہ اتفاق و اتحاد قائم رکھیں اور اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے کینے اور بغض چھوڑ دیں۔در حقیقت صحیح معنوں میں حج کرنے والا صرف وہی شخص کہلا سکتا ہے جو اس قسم کے فتنہ وفساد سے مجتنب رہے۔لیکن جو شخص فساد کرتا اور بنی نوع انسان کو دکھ پہنچاتا ہے وہ اپنے عمل سے اس وحدت اور مرکزیت کو نقصان پہنچاتا ہے جس کو قائم کرنے کیلئے اسلام نے حج بیت اللہ کا حکم دیا ہے۔" ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 455،454 مطبوعہ ربوہ)