365 دن (حصہ دوم) — Page 53
درس القرآن 53 درس القرآن نمبر 119 لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَكَةِ وَالْكِتَب وَالنَّبِيَّنَ وَأتَى الْمَالَ عَلَى حُبّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّابِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلوةَ وَأَتَى الزَّكَوةَ وَالْمُؤْفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عُهَدُوا وَالصُّبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِ أُولَبِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (البقرة:178) اگرچہ قرآن مجید کی ہر آیت اہم ہے مگر یہ آیت بعض لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اس کا تعلق گزشتہ مضمون سے بھی ہے اور اب جو مضمون شروع ہو رہا ہے اس سے بھی گہرا تعلق ہے۔ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ قبلہ کی تبدیلی کے مضمون کے ذریعہ یہ بات واضح کی گئی تھی اب اسلام کا خدا ہی زندہ اور حقیقی خدا ہے اور رسول اکرم صلی الی یہ ہی اب حقیقی رسول اور نبی ہیں اور قرآن مجید ہی حقیقتاً محفوظ الہامی کتاب ہے جس کی رہنمائی کے بعد سابقہ الہامی کتب کی الگ الگ پیروی کی ضرورت نہیں اور اب اسلامی شریعت ہی حقیقی شریعت ہے جو واجب العمل ہے۔اب اس آیت میں اسلام کی تمام اعتقادی اور شرعی اور اخلاقی تعلیم کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے۔کیونکہ یہاں سے اسلامی شریعت کے احکامات کی تفاصیل کا بیان شروع ہو رہا ہے۔قصاص، وصیت ، روزہ، حج، عائلی تعلقات وغیرہ کے بارہ میں احکام کا بیان شروع ہو رہا ہے اس لئے بڑے لطیف انداز میں ان تمام مضامین کو اجمالاً بیان کیا گیا ہے ، فرماتا ہے:۔اعلیٰ درجہ کی نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے رخ مشرق یا مغرب کی طرف پھیر و بلکہ اعلیٰ درجہ کی نیکی تو اس کی ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتاب پر اور نبیوں پر۔اور اللہ کی محبت رکھتے ہوئے پسندیدہ مال رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور مسکینوں کو اور مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردنوں کے آزاد کرنے کے لئے دے اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے۔یہ لوگ ہیں جو اپنے عہد کو جب بھی وہ عہد کریں پورا کرتے ہیں اور تکلیفوں اور دکھوں کے دوران صبر کرنے والے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے زبان اور عمل سے صدق دکھایا اور یہی لوگ ہی متقی ہیں۔