365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 47 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 47

درس القرآن 47 درس القرآن نمبر 114 وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا انْزَلَ اللهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا الفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَ لَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ (البقرة:171) جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 169 سے مضمون کا رنگ بدل گیا ہے۔آیت 169 تک آیات کی تلاوت کے پہلو پر زور تھا اب اس کے بعد قوانین و احکامات اور ان کی حکمت بیان کرنے پر زور ہے اور اس سلسلہ میں فرمایا تھا کہ حلال اور طیب کھانے کھاؤ۔اور اب چند آیات میں اس حکم کی اہمیت اور ضرورت اور اس کے مختلف پہلوؤں کی تشریح کی گئی ہے۔آج کی آیت میں اس حکم کی نافرمانی کی بہت اہم وجہ بیان کی گئی ہے فرماتا ہے کہ لوگوں کو جب حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قوانین اور احکامات کے بارہ میں جو تعلیم اتاری ہے اس کی پیروی کرو تو اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ہم تو اس طریق کی پیروی کریں گے جو ہمارے باپ دادا کی طرف سے چلتا چلا آرہا ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو سچے مذہب کا سب سے بڑا دشمن شاید یہی خیال ہے۔انگلستان کے قیام کے دوران میں اسلام کی تعلیم کی کوئی اچھی بات بھی مقامی لوگوں کے سامنے پیش کی جاتی تو بالعموم جواب ملتا But we English are not like that بہت ہی ہمت والے وہ شخص ہوتے ہیں جو جو اپنے ماحول کے اثرات، اپنے ماں باپ سے سنی ہوئی باتیں اپنے کنبہ اور قوم کے خیالات و عقائد پر ناقدانہ نظر ڈال کر سچے مذہب کی پیش کر وہ صداقتوں کو اختیار کرنے والے ہوں۔سؤر ، شراب، عریانی خلاف عقل عقائد کے بارہ میں جتنا بھی لوگوں کو سمجھایا جائے وہ ورثہ میں ملے ہوئے طریق چھوڑنے کو کم ہی تیار ہوتے ہیں۔قرآن شریف فرماتا ہے اَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ کیا ایسی صورت میں بھی وہ اپنے آباء واجداد کی پیروی کریں گے۔جبکہ ان کے باپ دادا خلاف عقل خیالات اور باتیں کر رہے ہوں اور سیدھے راستہ پر نہ چل رہے ہوں۔یہ کون سی دانائی کی بات ہے ؟؟؟