365 دن (حصہ دوم) — Page 48
درس القرآن 48 درس القرآن نمبر 115 وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاء وَنِدَاءً صُهُ بُكُمْ (البقرة:172) دوو بوو عَلَى فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ جیسا کہ گزشتہ درسوں میں بتایا گیا ہے آیت یااَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلْلًا طيبا (البقرة: 169) سے سورۃ البقرۃ کے پہلے مضمون تلاوت آیات کے بعد دوسرا مضمون کتاب یعنی شریعت کے احکامات اور قوانین اور تیسر ا مضمون احکامات قوانین کی حکمتوں کا بیان شروع ہے۔پہلا قانون اور حکم یہ تھا کہ حلال اور طیب ہی کھاؤ۔اس کے بعد کی آیات میں اس حکم کی حکمت اور اس حکم کے انکار کرنے والوں کی نادانی کا بیان ہے۔آج کی آیت میں یہ مضمون ہے کہ ایسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم دین اور دنیا کے لحاظ سے مفید تعلیم، پاکیزہ اور بابرکت تعلیم کہ جائز کھاؤ اور طبیب کھاؤ کالوگ اپنی نادانی سے انکار کر رہے ہیں۔یہ کتنی نادانی کی بات ہے ان کی مثال تو یہ ہے کہ جس طرح چوپایوں کو بلانے والا ان کو بلا تا ہے۔مگر وہ سوائے پکار اور آواز کے کچھ نہیں سنتے۔یہ لوگ بہرے ہیں، گونگے ہیں ، اندھے ہیں اور عقل سے کام نہیں لیتے۔حضرت مصلح موعود اس آیت کا پہلی آیت سے تعلق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔“ جب انہیں خدا تعالیٰ کی طرف بلایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جو کچھ خدا نے نازل کیا اس کی اتباع کرو تو وہ اُسے سن کر اعراض اختیار کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اسی طریق کی اتباع کرینگے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔گویا محمد رسول اللہ صلی للی کم کا انہیں دعوت حق دینا ایسا ہی ہے جیسے جانوروں کو اپنی طرف بلانا۔یہ لوگ بھی آپ کی آواز سُنتے ہیں مگر سمجھتے نہیں کہ اس آواز پر لبیک کہنا کس قدر ضروری ہے اور وہ اپنے باپ دادا کے طریق پر چلتے چلے جاتے ہیں۔" تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 336 مطبوعہ ربوہ)