365 دن (حصہ دوم) — Page 35
درس القرآن 35 درس القرآن نمبر 105 اس قبلہ کی تبدیلی اور مسجد الحرام کو اپنی تمام سرگرمیوں کا مرکزی نقطہ بنانے کے مضمون کو مضمون سے جوڑا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات ہمارے رسول صلی علیم کے مقام اور آپ صلی ال نیم کی عظیم ذمہ داریوں کے ساتھ وابستہ ہیں، فرماتا ہے: كَما اَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِنْكُمْ يَتْلُوا عَلَيْكُمْ ابْتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِمُكُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ (البقرة:152) کہ قبلہ کی تبدیلی اور مسجد الحرام کے مقاصد کو اپنے تمام کاموں کا مرکزی نقطہ قرار دینا اس لئے ضروری ہے کہ ہم نے تم میں وہ عظیم الشان رسول یعنی محمد مصطفی صلی علم کو جو تمہاری روحانی تعلیم و تربیت کے لئے ہماری آیات تم لوگوں کو پڑھ کر سناتا ہے مگر صرف پڑھ کر نہیں سناتا بلکہ اپنی قوت قدسیہ اور دعا اور پاک نمونہ کے ذریعہ تمہیں پاک بھی کرتا ہے اور تمہاری روز افزوں ترقی اور بڑھنے کا ذریعہ بھی ہے اور اس غرض کے لئے جس کتاب کی ضرورت ہے اس کے لئے جو احکامات اور قوانین درکار ہیں ان کی تمہیں تعلیم دیتا ہے اور دیگر مذاہب کی طرح صرف قوانین نافذ کرنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ان کی فلاسفی اور ان کی حکمت بھی سکھاتا ہے اور اس پر مزید یہ کہ بہت سی تعلیمات جو ماضی کے مذاہب میں رہ گئی تھیں وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ وہ تعلیمات بھی تمہیں دیتا ہے کیونکہ پرانے مذاہب وقتی اور علاقائی تھے اس لئے ان میں پوری تعلیم نہیں تھی۔فرماتا ہے فَاذْكُرُونِي أَذْكُرُكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (البقرة:153) اب اتنابڑا احسان ہم نے تم پر کیا ہے تو اب تمہارا فرض میر اذکر اور شکر ہے اگر میر اذکر کرو گے تو میں بھی تمہیں یا درکھوں گا اور میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔