365 دن (حصہ دوم) — Page 212
212 درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 73 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔“خدا تعالیٰ کے بندے کون ہیں؟ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی زندگی کو جو اللہ تعالیٰ نے اُن کو دی ہے۔اللہ تعالیٰ ہی کی راہ میں وقف کر دیتے ہیں اور اپنی جان کو خدا کی راہ میں قربان کرنا، اپنے مال کو اُس کی راہ میں صرف کرنا اس کا فضل اور اپنی سعادت سمجھتے ہیں، مگر جو لوگ دُنیا کی املاک و جائداد کو اپنا مقصود بالذات بنا لیتے ہیں، وہ ایک خوابیدہ نظر سے دین کو دیکھتے ہیں، مگر حقیقی مومن اور صادق مسلمان کا یہ کام نہیں ہے۔سچا اسلام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو مادام الحیات وقف کر دے، تاکہ وہ حیات طیبہ کا وارث ہو۔چنانچہ خود اللہ تعالیٰ اس للہی وقف کی طرف ایماء کر کے فرماتا ہے۔مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقره: 113) اس جگہ اَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ کے معنی یہی ہیں کہ ایک نیستی اور تذلل کا لباس پہن کر آستانہ الوہیت پر گرے اور اپنی جان، مال، آبر و غرض جو کچھ اس کے پاس ہے۔خدا ہی کے لیے وقف کرے اور دنیا اور اس کی ساری چیزیں دین کی خادم بنادے۔حصول دنیا میں مقصود بالذات دین ہو: کوئی یہ نہ سمجھ لیوے کہ انسان دُنیا سے کچھ غرض اور واسطہ ہی نہ رکھے۔میرا یہ مطلب نہیں ہے اور نہ اللہ تعالیٰ دُنیا کے حصول سے منع کرتا ہے، بلکہ اسلام نے رہبانیت کو منع فرمایا ہے۔یہ بزدلوں کا کام ہے۔مومن کے تعلقات دنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وہ اس کے مراتب عالیہ کا موجب ہوتے ہیں، کیونکہ اُس کا نصب العین دین ہو تا ہے اور دُنیا، اُس کا مال وجاہ دین کا خادم ہوتا ہے۔پس اصل بات یہ ہے کہ دُنیا مقصود بالذات نہ ہو۔بلکہ حصولِ دُنیا میں اصل غرض دین ہو اور ایسے طور پر دنیا کو حاصل کیا جاوے کہ وہ دین کی خادم ہو۔جیسے انسان کسی جگہ سے دوسری جگہ جانے کے واسطے سفر کے لئے سواری اور زادِ راہ کو ساتھ لیتا ہے تو اس کی اصل غرض منزلِ مقصود پر پہنچنا ہوتا ہے نہ خود سواری اور راستہ کی ضروریات۔اس طرح پر انسان دنیا کو حاصل کرے مگر دین کا خادم سمجھ کر۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ دُعا تعلیم فرمائی ہے کہ ربَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (البقرہ:202) اس میں بھی دُنیا کو م کیا ہے ، لیکن کس دُنیا کو ؟ حَسَنَةُ الدُّنْیا کو جو آخرت میں حسنات کا موجب ہو جائے۔اس دُعا کی تعلیم سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ مومن کو دُنیا کے حصول میں حَسَنَاتُ الْآخِرَةِ کا خیال مقدم