365 دن (حصہ دوم) — Page 213
درس روحانی خزائن 213 رکھنا چاہیے اور ساتھ ہی حَسَنَةُ الدُّنْيَا کے لفظ میں ان تمام بہترین ذرائع حصول دنیا کا ذکر آگیا ہے جو ایک مومن مسلمان کو حصول دُنیا کے لئے اختیار کرنے چاہیں۔دُنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو۔جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خوبی ہی ہو۔نہ وہ طریق جو کسی دوسرے بنی نوع انسان کی تکلیف رسائی کا موجب ہو۔نہ ہم جنسوں میں کسی عارو شرم کا باعث۔ایسی دنیا بے شک حَسَنَةً الْآخِرَةِ کا موجب ہو گی۔ست نہ بنو: پس یادرکھو کہ جو شخص خدا کے لئے زندگی وقف کر دیتا ہے۔یہ نہیں ہو تا کہ وہ بے دست و پا ہو جاتا ہے۔۔نہیں ہر گز نہیں۔بلکہ دین اور للہی وقف انسان کو ہوشیار اور دست پا یا اتار چابکدست بنادیتا ہے۔کستی اور کنسل اُس کے پاس نہیں آتا۔حدیث میں عمار بن خزیمہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے میرے باپ کو فرمایا کہ تجھے کس چیز نے اپنی زمین میں درخت لگانے سے منع کیا ہے تو میرے باپ نے جواب دیا کہ میں بڑھا ہوں۔کل مر جاؤں گا۔پس اُس کو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تجھ پر ضرور ہے کہ درخت لگائے۔پھر میں نے حضرت عمر کو دیکھا کہ خود میرے باپ کے ساتھ مل کر ہماری زمین میں درخت لگاتے تھے اور ہمارے نبی کریم صلی لی یکم ہمیشہ عجز اور کسل سے پناہ مانگا کرتے تھے۔میں پھر کہتا ہوں کہ سست نہ بنو۔اللہ تعالیٰ حصولِ دنیا سے منع نہیں کرتا، بلکہ حَسَنَةُ الدُّنْيَا کی دُعا تعلیم فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ انسان بے دست و پا ہو کر بیٹھ رہے بلکہ اُس نے صاف فرمایا ہے لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ اِلَّا مَا سعى ( انجم :40) اس لیے مومن کو چاہیے کہ وہ جد وجہد سے کام کرے، لیکن جس قدر مرتبہ مجھ سے ممکن ہے یہی کہوں گا کہ دنیا کو مقصود بالذات نہ بنالو۔دین کو مقصود بالذات ٹھہراؤ اور دنیا اس کے لئے بطور خادم اور مذکب کے ہو۔دولت مندوں سے بسا اوقات ایسے کام ہوتے ہیں کہ غریبوں اور مفلسوں کو وہ موقع نہیں ملتا۔” مشکل الفاظ اور ان کے معانی: سعاد الماء عار و شرم مَرْكَبْ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 365،364 مطبوعہ ربوہ) خوش بختی مادام الحيات جب تک زندگی ہے اشاره حياه مقام و مرتبه ، شان بے عزتی للہی وقف اللہ کی خاطر وقف، قربان کرنا سواری