365 دن (حصہ دوم) — Page 16
درس القرآن 16 درس القرآن نمبر 91 الْمُشْرِكِينَ وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصْرِى تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ (البقرة:136) مجھے یاد ہے کہ لندن یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران میں یونیورسٹی کے ایک کیفیٹیریا میں خاکسار ایک عیسائی نوجوان سے اسلام اور عیسائیت پر بات کر رہا تھا اور زیر بحث یہ بات تھی کہ عیسائیت کے عقائد تثلیث وغیرہ عقلاً درست نہیں بلکہ سمجھ میں نہیں آتے تو اس جوان نے جواب دیا کہ تم عیسائی ہو جاؤ تو وہ سمجھ آجائیں گے اس موقعہ پر اس نے انگریزی ضرب المثل جس کا مطلب یہ ہے کہ پڈنگ کا مزہ کھانے میں ہے تم پڈنگ کھا کر دیکھ لو۔میں نے کہا اگر مجھے معلوم ہے کہ اس پڈنگ میں زہر ملایا گیا ہے تو میں اس کو کیوں کھاؤں۔جو آیت ہم نے آج پڑھی ہے اس میں یہود اور نصاریٰ کی اس تکنیک کا ذکر ہے کہ وہ کہتے ہیں یہودی ہو جاؤ، عیسائی ہو جاؤ، تمہیں صحیح ہدایت مل جائے گی، سمجھ آجائے گی، فرماتا ہے۔تم تو کہتے تھے کہ ابراہیم کا ورثہ ہم نے لیا ہے ہم ابراہیم کی ملت پر قائم ہیں اور ابراہیمی وعدے ہمارے ذریعہ پورے ہونے چاہیں قُل بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِمَ حَنِيفًا تو کیوں نہ ہم ابراہیم کی ملت کی پیروی کریں حَنِيفًا جو سراسر موحد تھا وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا۔مراد یہ ہے کہ اگر چہ تم دونوں فریق موحد ہونے کا دعویٰ کرتے ہو، لیکن تمہارے عقائد صاف طور پر مشرکانہ ہیں۔تم بیٹے اور روح القدس کو خدا باپ کی طرح خدا کہتے ہو ، دونوں کو علم، مرتبہ ، مقام، ارادہ، اختیار اور طاقت میں خدا باپ کے برابر سمجھتے ہو، ساتھ ہی یہ اعتقاد بھی رکھتے ہو کہ باپ، بیٹے ، روح القدس میں حقیقی امتیاز اور تینوں حقیقتاً الگ الگ ہیں تو یہ شرک نہ ہو ا تو اور کیا ہوا؟ اور یہودا گر چہ لفظ توحید پر زور دیتے ہیں مگر ان کے شرک کی جو حالت تھی چه اس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام براہین احمدیہ میں اس طرح فرماتے ہیں:۔آنحضرت صلی علیم کے ظہور کے وقت تک ہر یک قوم کی ضلالت اور گمراہی کمال کے