365 دن (حصہ دوم) — Page 195
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 63 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔195 ترقیات کی دور ہیں: سلوک : صوفیوں نے ترقیات کی دور انہیں لکھی ہیں ایک سلوک دوسر ا جذب۔سلوک وہ ہے جو لوگ آپ عظمندی سے سوچ کر اللہ ورسول صلی علیم کی راہ اختیار کرتے ہیں جیسے فرمایا: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : 32) یعنی اگر تم اللہ کے پیارے بننا چاہتے ہو، تو رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کی پیروی کر و۔وہ ہادی کامل وہی رسول ہیں جنہوں نے وہ مصائب اٹھائیں کہ دنیا اپنے اندر نظیر نہیں رکھتی۔ایک دن بھی آرام پایا۔اب پیروی کرنے والے بھی حقیقی طور سے وہی ہوں گے۔جو اپنے متبوع کے ہر قول و فعل کی پیروی پوری جدوجہد سے کریں۔متبع وہی ہے جو سب طرح پیروی کرے گا۔سہل انگار اور سخت گزار کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتا، بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے غضب میں آوے گا۔یہاں جو اللہ تعالی نے رسول اکرم صلی للی کم کی پیروی کا حکم دیا تو سالک کا کام یہ ہونا چاہیے کہ اول رسول اکرم صلی نیلم کی مکمل تاریخ دیکھے اور پھر پیروی کرے۔اسی کا نام سلوک ہے۔اس راہ میں بہت مصائب و شدائد ہوتے ہیں ان سب کو اٹھانے کے بعد ہی انسان سالک ہو تا ہے۔جذب: اہل جذب کا درجہ سالکوں سے بڑھا ہوا ہے۔اللہ تعالی انہیں سلوک کے درجہ پر ہی نہیں رکھتا، بلکہ خود اُن کو مصائب میں ڈالتا اور جاذبہ ازلی سے اپنی طرف کھنچتا ہے۔گل انبیاء مجذوب ہی تھے۔جس وقت انسانی روح کو مصائب کا مقابلہ ہوتا ہے۔ان سے فرسودہ کار اور تجربہ کار ہو کر روح چمک اٹھتی ہے۔جیسے کہ لوہا یا شیشہ اگر چہ چمک کا مادہ اپنے اندر رکھتا۔لیکن صیقلوں کے بعد ہی مجلی ہوتا ہے ، حتی کہ اس میں منہ دیکھنے والے کا منہ نظر آجاتا ہے۔مجاہدات بھی صقیل کا ہی کام کرتے ہیں۔دل کا صقیل یہاں تک ہونا چاہیے کہ اس میں سے بھی منہ نظر آجاوے۔منہ کا نظر آنا کیا ہے ؟ تَخَلَّقُوْا بِأَخْلَاقِ اللہ کا مصداق ہونا۔سالک کا دل آئینہ ہے جس کو مصائب و شدائد اس قدر صقیل کر دیتے ہیں کہ اخلاق النبی اس ہے۔