365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 193 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 193

درس روحانی خزائن 193 درس روحانی خزائن نمبر 62 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔“حدیث میں آیا ہے۔اگر فضل نہ ہوتا، تو نجات نہ ہوتی۔ایسا ہی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ نے آپ سے سوال کیا کہ یا حضرت! کیا آپ کا بھی یہی حال ہے۔آپ نے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا : ہاں۔نادان اور احمق عیسائیوں نے اپنی نافہمی اور ناواقفی کی وجہ سے اعتراض کیے ہیں، لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ یہ آپ کی کمال عبودیت کا اظہار تھا جو خدا تعالیٰ کی ربوبیت کو جذب کر رہا تھا۔ہم نے خود تجربہ کر کے دیکھا ہے اور متعدد مر تبہ آزمایا ہے ، بلکہ ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ جب انکسار اور تذلل کی حالت انتہا کو پہنچتی ہے اور ہماری روح اس عبودیت اور فروتنی میں بہہ نکلتی ہے اور آستانہ حضرت واہب العطایا پر پہنچ جاتی ہے تو ایک روشنی اور نور اوپر سے اترتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک نالی کے ذریعے سے مصفا پانی دوسری نالی میں پہنچتا ہے۔آنحضرت صلی السلام کے انوار و برکات : پس آنحضرت صلی ایم کی حالت جس قدر بعض مقامات پر فروتنی اور انکساری میں کمال پر پہنچی ہوئی نظر آتی ہے۔وہاں معلوم ہوتا ہے کہ اسی قدر آپ رُوح القدس کی تائید اور روشنی سے مؤید اور منور ہیں۔جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی الم نے عملی اور فعلی حالت سے دکھایا ہے یہانتک کہ آپ کے انوار و برکات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ ابد الآباد تک اس کا نمونہ اور ظل نظر آتا ہے، چنانچہ اس زمانہ میں بھی جو کچھ خدا تعالیٰ کا فیض اور فضل نازل ہو رہا ہے ، وہ آپ ہی کی اطاعت اور آپ ہی کی اتباع سے ملتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ کوئی شخص حقیقی نیکی کرنے والا اور خدا تعالیٰ کی رضا کو پانے والا نہیں ٹھہر سکتا اور ان انعام و برکات اور معارف اور حقائق اور کشوف سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا، جو اعلیٰ درجہ کے تزکیۂ نفس پر ملتے ہیں۔جب تک کہ وہ رسول اللہ صل الل علم کی اتباع میں کھویا نہ جائے اور اس کا ثبوت خود خدا تعالیٰ کے کلام سے ملتا ہے : قُل اِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : 32) اور خدا تعالیٰ کے اس دعوی کی عملی اور زندہ دلیل میں ہوں۔ان نشانات کے ساتھ جو خدا تعالیٰ کے محبوبوں اور ولیوں کے قرآن 79