365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 175 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 175

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 52 66 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔175 بیعت اور توبہ: بیعت میں جاننا چاہیے کہ کیا فائدہ ہے اور کیوں اس کی ضرورت ہے ؟ جب تک کسی شئے کا فائدہ اور قیمت معلوم نہ ہو ، تو اس کی قدر آنکھوں کے اندر نہیں ساتی۔جیسے گھر میں انسان کے کئی قسم کا مال و اسباب ہوتا ہے۔مثلا روپیہ ، پیسہ، کوڑی، لکڑی وغیرہ۔تو جس قسم کی شے ہے، اسی درجہ کی اس کی حفاظت کی جاوے گی۔ایک کوڑی کی حفاظت کے لیے وہ سامان نہ کرے گا جو پیسہ اور روپیہ کے لیے اسے کرنا پڑے گا اور لکڑی وغیرہ کو تو یو نہی ایک کو نہ میں ڈال دے گا۔علی ہذالقیاس جس کے تلف ہونے سے اس کا زیادہ نقصان ہے۔اس کی زیادہ حفاظت کرے گا۔اسی طرح بیعت میں عظیم الشان بات تو بہ ہے۔جس کے معنی رجوع کے ہیں۔تو بہ اس حالت کا نام ہے کہ انسان اپنے معاصی سے جن سے اس کے تعلقات بڑھے ہوئے ہیں اور اس نے اپنا وطن انہیں مقرر کر لیا ہوا ہے گویا کہ گناہ میں اس نے بودوباش مقرر کر لی ہوئی ہے۔اس وطن کو چھوڑنا اور رجوع کے معنے پاکیزگی کو اختیار کرنا۔اب و طن کو چھوڑنا بڑا گراں گزرتا ہے اور ہزاروں تکلیفیں ہوتی ہیں۔ایک گھر جب انسان چھوڑتا ہے تو کس قدر اسے تکلیف ہوتی ہے اور وطن کو چھوڑنے میں تو اس کو سب یار دوستوں سے قطع تعلق کرنا پڑتا ہے اور سب چیزوں کو مثل چار پائی، فرش و ہمسائے ، وہ گلیاں کوچے ، بازار سب چھوڑ چھاڑ کر ایک نئے ملک میں جانا پڑتا ہے یعنی اس (سابقہ) وطن میں کبھی نہیں آتا۔اس کا نام تو بہ ہے۔معصیت کے دوست اور ہوتے ہیں اور تقویٰ کے دوست اور۔اس تبدیلی کو صوفیاء نے موت کہا ہے جو تو بہ کرتا ہے ، اسے بڑا حرج اٹھانا پڑتا ہے اور سچی تو بہ کے وقت بڑے بڑے حرج اس کے سامنے آتے ہیں اور اللہ تعالی رحیم و کریم ہے۔وہ جب تک اس کل کا نعم البدل عطانہ فرماوے، نہیں مارتا۔اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ (البقره: 223) میں یہی اشارہ ہے کہ وہ تو بہ کر کے غریب، بیکس ہو جاتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ اس سے محبت اور پیار کرتا ہے اور اسے نیکوں کی جماعت میں داخل کرتا ہے۔دوسری قومیں خدا کو رحیم و کریم