365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 168 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 168

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 48 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔168 “انسان کی تدریجی ترقی میں جب خدا کے پاک کلام پر غور کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ کیونکر اس نے اپنی تعلیموں میں انسان کو اس کی طبعی حالتوں کی اصلاح کے قواعد عطا فرما کر پھر آہستہ آہستہ اوپر کی طرف کھینچا ہے اور اعلیٰ درجہ کی روحانی حالت تک پہنچانا چاہا ہے۔تو مجھے یہ پر معرفت قاعدہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اول خدا نے یہ چاہا ہے کہ انسان کو نشست برخاست اور کھانے پینے اور بات چیت اور تمام اقسام معاشرت کے طریق سکھلا کر اس کو وحشیانہ طریقوں سے نجات دیوے اور حیوانات کی مشابہت سے تمیز کلی بخش کر ایک ادنیٰ درجہ کی اخلاقی حالت جس کو ادب اور شائستگی کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں سکھلاوے۔پھر انسان کی نیچرل عادات کو جن کو دوسرے لفظوں میں اخلاق رذیلہ کہہ سکتے ہیں اعتدال پر لاوے تاوہ اعتدال پا کر اخلاق فاضلہ کے رنگ میں آجائیں۔مگر یہ دونوں طریقے دراصل ایک ہی ہیں کیونکہ طبعی حالتوں کی اصلاح کے متعلق ہیں صرف ادنی اور اعلیٰ درجہ کے فرق نے ان کو دو قسم بنادیا ہے۔اور اس حکیم مطلق نے اخلاق کے نظام کو ایسے طور سے پیش کیا ہے کہ جس سے انسان ادنی خلق سے اعلیٰ خلق تک ترقی کر سکے۔اسلام کی حقیقت اور پھر تیسر امرحلہ ترقیات کا یہ رکھا ہے کہ انسان اپنے خالق حقیقی کی محبت اور رضا میں محو ہو جائے اور سب وجو د اس کا خدا کیلئے ہو جائے۔یہ وہ مرتبہ ہے جس کو یاد دلانے کیلئے مسلمانوں کے دین کا نام اسلام رکھا گیا ہے۔کیونکہ اسلام اس بات کو کہتے ہیں کہ بکلی خدا کیلئے ہو جانا اور اپنا کچھ باقی نہ رکھنا۔" اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 324) مشکل الفاظ اور ان کے معانی: نشست بر حناست بیٹھنا اٹھنا اخلاق رذیلہ برے اخلاق