365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 160 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 160

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 43 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔160 سمیں دیکھتا ہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور شست اس لیے ہوتے ہیں کہ ان کو اس لذت اور شرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ کل کی یہی ہے۔پھر شہر وں اور گاؤں میں تو اور بھی سستی اور غفلت ہوتی ہے۔سو پچاسواں حصہ بھی تو پوری مستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولا حقیقی کے حضور سر نہیں جھکاتے، پھر سوال یہی ہوتا ہے کیوں اُن کو اس لذت کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی اس مزے کو انہوں نے چکھا۔اور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مؤذن اذان دے دیتا ہے۔پھر وہ سُننا بھی نہیں چاہتے۔گویا اُن کے دل دُکھتے ہیں۔یہ لوگ بہت ہی قابلِ رحم ہیں۔بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ ان کی دوکانیں دیکھو تو مسجد کے نیچے ہیں مگر کبھی جا کر کھڑے بھی تو نہیں ہوتے۔پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دُعا مانگنی چاہیئے کہ جس طرح اور پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزا چکھادے، کھایا ہوا یاد رہتا ہے۔دیکھو اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سرور کے ساتھ دیکھتا ہے تو وہ اُسے خوب یاد رہتا ہے اور پھر اگر کسی بد شکل اور مکروہ ہیئت کو دیکھتا ہے تو اس کی ساری حالت اس کے بالمقابل مجسم ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہو تو کچھ یاد نہیں رہتا۔اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نماز ایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اُٹھ کر سردی میں وضو کر کے خواب راحت چھوڑ کر اور کئی قسم کی آسائشوں کو چھوڑ کر پڑھنی پڑتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اُسے بیزاری ہے وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔اس لذت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے۔پھر نماز میں لذت کیونکر حاصل ہو۔" ( ملفوظات سوم صفحہ 28،27 مطبوعہ ربوہ) مشکل الفاظ اور ان کے معانی: سستی، کوتاہی کل تاوان جرمانہ مکروہ ناپسندیدہ، جس سے کراہت آئے شکل