365 دن (حصہ دوم) — Page 147
ریت 147 سة علیہم درس حدیث نمبر 73 ہمارے نبی صلی علی کم پر ایمان لانے اور آپ صلی علیم سے علم دین سیکھنے اور آپ صلی الله یم کی جدوجہد میں قربانی کرنے میں جہاں مردوں نے عظیم الشان نمونہ دکھایا وہاں صحابیات نے بھی عظیم الشان نمونہ پیش کیا۔حضور صلی علیہ کم کو جب اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت پر فائز فرمایا تو سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والی ایک خاتون تھیں جو نہ صرف ایمان لائیں بلکہ آپ کی اس عظیم الشان مہم میں پہلے دن سے ہی آپ کی مددگار بنیں اور نہایت زریں الفاظ میں آپ کے اخلاق حسنہ کا تذکرہ فرماتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔آپ صلی نیلم کے دین کی جدوجہد میں جان دینے والی بھی سب سے پہلے ایک خاتون حضرت ام سمیہ تھیں جنہوں نے غیر معمولی قربانی کا مظاہرہ فرمایا۔آپ صلی ا ظلم کی حفاظت کے لئے احد جیسے نازک موقعہ پر حضرت ام عمارہ آپ صلی علیکم کے دائیں بھی لڑیں اور بائیں بھی لڑیں اور دشمن کو آپ تک نہ پہنچنے دیا۔حدیبیہ کی صلح کے موقعہ پر جب حضرت عمر جیسے جلیل القدر صحابی بھی صلح کرنے پر مطمئن نہیں تھے حضرت ام سلمہ مغکا مشورہ تھا جس نے صحابہ کی کیفیت کو بدل دیا۔آپ صلی علیہم کے دین کے علم کی گہرائی اور وسعت جو حضرت عائشہ کو حاصل تھی اس کا نتیجہ تھا کہ صحابہ آپ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے تھے۔نیا قرآن مجید مومن خواتین کی تعریف میں ان کی ایک صفت السائحات فرماتا ہے یعنی دین کی خاطر سفر کی مشقت برداشت کرنے والی ہیں۔اس بارہ میں ایک نمونہ حضرت ام حرائم بنت ملحان کا ہے۔حضور صلی علیکم ایک دفعہ نیند سے بیدار ہوئے اور آپ خوشی سے ہنس رہے تھے۔حضرت ام حرام بنت ملحان نے پوچھا۔حضور کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا میں نے یہ نظارہ دیکھا ہے کہ میرے صحابہ جہاد کے لئے سمندر کا سفر کر رہے ہیں مگر اس طرح بیٹھے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر ہوتے ہیں۔حضرت ام حرام بنت ملحان نے عرض کیا۔حضور دعا کریں کہ اللہ مجھے ان میں سے بنا دے۔آپ نے فرمایا۔تو ان میں سے ہے۔( بخاری کتاب الجہاد والسیر باب الدعا بالجهاد والشهادة للرجال والنساء حدیث نمبر 2789،2788) چنانچہ سائپرس کے خلاف جہاد میں حضرت ام حرام سمندری سفر میں شامل ہوئیں اور سائپرس میں ہی ان کی وفات ہوئی اور ان کا مزار ابھی تک وہاں موجود ہے۔