365 دن (حصہ دوم) — Page 148
درس حدیث 148 درس حدیث نمبر 74 حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی الم نے فرمایا: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ آخِيْهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِّنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ( بخاری کتاب المظالم باب لا يظلم المسلم المسلم ولا يسلمه حدیث نمبر (2442) اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں دو قسم کی برادری قائم کی ہے ایک وہ برادری ہے جو نسب کے ذریعہ بنتی ہے دو شخص ایک ماں باپ کے بیٹے ہیں یا ایک ماں کے بیٹے ہیں اور باپ مختلف ہیں یا ایک باپ کے بیٹے ہیں اور مائیں مختلف ہیں یہ برادری ایک باہمی تعلق رکھتی ہے جس کے پیچھے خونی رشتہ ہوتا ہے اس تعلق کے تقاضے پورے کرنا بھی انسان کا اخلاقی فرض بھی ہے اور اس کے لئے شریعت اور قانون میں بھی کچھ گنجائش ہے۔دوسری برادری ایک خدا اور ایک نبی صلی للی کم اور ایک کتاب قرآن شریف اور ایک دین اسلام کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے اور اس تعلق کے تقاضے پورے کرنے کے لئے قانونی دباؤ کے بجائے اخلاقی سبق پر زور دیا گیا ہے۔قرآن شریف اور ہمارے نبی صلی نیلم نے اس اخلاقی سبق پر غیر معمولی زور دیا ہے۔جو تمہارا خونی رشتہ دار ہے بلکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے بھائی کا مقام رکھتا ہے۔لا يَظْلِمُہ اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس کے حقوق تلف نہ کرے وَلا يُسْلِمُہ اور نہ ہی اس کو بے مددگار چھوڑ دے اور پھر صرف اتنا ہی نہیں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی حق تلفی نہ کرے مگر مثبت طور پر اس کے کام آئے، فرمایا من كَانَ فِي حَاجَةٍ أَخِيهِ كَانَ اللهُ فِي حَاجَتِهِ جو اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے ، اپنے بھائی کے کام آتا ہے تو اللہ اس کی ضرورت پوری کرتا ہے ، اس کے کام آتا ہے وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ كربةً اور جو کسی مسلمان کی کسی تکلیف کو دور کرتا ہے فَرَّجَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِّنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ تو اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کی تکالیف میں سے تکلیف دور فرمائے مُسْلِمٍ