365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 136 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 136

درس حدیث 136 درس حدیث نمبر 64 رض حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الم نے فرمایا: كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا آنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَاسَمِعَ۔مسلم المقدمة المؤلف باب النهي عن الحديث بكل ما سمع حديث نمبر (7) اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے : وَ اِذَا جَاءَهُم أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَ إِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمُ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُم (النساء:84) کہ جب ان کے پاس کوئی امن یا خوف کی خبر آئے تو اس کو مشتہر کر دیتے ہیں وہ اگر اسے پھیلانے کے بجائے رسول کو پہنچاتے یا اپنے ہی ذمہ دار آدمیوں کو پہنچاتے تو ان میں سے جو اس سے استنباط کر سکتے ہیں اس کی اصلیت کو جان لیتے۔یہ معاشرہ کی بیماری جس کا اس آیت میں ذکر ہے بہت کثرت سے ہمارے مشرقی ممالک میں پائی جاتی ہے۔جس کے نتیجہ میں بڑی کثرت سے لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں، بدظنیاں پھیلتی ہیں، شرارتیں پھوٹتی ہیں اور جھگڑے پید اہوتے ہیں اور دشمن ممالک کو موقعہ ملتا ہے کہ وہ اپنے مخالف ممالک کو کمزور کریں اور انہیں نقصان پہنچائیں۔بلکہ بعض ممالک با قاعدہ تکنیک طور پر اپنے دشمن ممالک سے یہ سلوک کرتے ہیں، جو حدیث ہم نے آج پڑھی ہے اس میں اس بیماری کا علاج بتایا گیا ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ کریم نے فرمایا لوگ اس بات کو معمولی بات سمجھتے ہیں کہ ایک بات کسی سے سنی اور اس کو آگے بیان کر دیا نہ یہ دیکھتے ہیں کہ آیا بات درست ہے یا نہیں، یا درست ہو بھی سکتی ہے یا نہیں، نہ یہ دیکھتے ہیں کہ کون لوگ اس کو بیان کر رہے ہیں اور اس کے بیان سے ان کا مقصد کیا ہے ، حضور صلی الی یکم فرماتے ہیں کہ انسان کے جھوٹ کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ ہر چیز جو سنتا ہے آگے بیان کر دیتا ہے۔اس مختصر سی حدیث میں حضور صلی الیم نے ایک سخت انذار کیا ہے کہ وہ شخص جو ارادةً جھوٹ نہیں بول رہا مگر بے احتیاطی سے سنی سنائی بات آگے بیان کرتا چلا جاتا ہے وہ بھی جھوٹ بولنے کا مر تکب ہو رہا ہے۔