365 دن (حصہ دوم) — Page 133
درس حدیث 133 درس حدیث نمبر 61 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں: اني سَمِعْتُ النَّبِ يا الله يَقُوْلُ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا۔۔۔۔بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ (بخاری کتاب الصلوۃ باب من بنى مسجداً حديث نمبر 450) اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کو دنیا کے ملک ملک میں خدا کی عبادت اور اس کے نام کو بلند کرنے کے لئے مساجد کی تعمیر کی توفیق مل رہی ہے اور جماعت اللہ کے فضل سے تعمیر مساجد کی برکتوں سے متمتع ہو رہی ہے اور ہزاروں اشخاص اسلام اور احمدیت کی آغوش میں آرہے ہیں دراصل مساجد کو اسلام میں مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔پانچ (5) وقت مسلمان بھائی خدا کے گھر میں اکھٹے ہوتے ہیں، عبادت بھی کرتے ہیں اور اسلام کی اشاعت اور خدمت کے مختلف پہلوؤں پر مشورہ بھی کرتے ہیں۔ایک دوسرے کی خیریت کا علم بھی ان کو ہوتا ہے۔غیر مسلموں کو بھی مسجد آکر اسلام کی اصل اور صحیح تعلیم سے واقفیت ہوتی ہے۔ہمارے نبی صلی للی یکم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو اپنے رہائشی گھروں کی تعمیر سے بھی پہلے حضور صلی علی رام نے مسجد کی تعمیر کی۔بلکہ خود اس کی تعمیر میں بنفس نفیس کام کیا۔حضرت عثمان بن عفان بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم کو یہ فرماتے سنا: مَنْ بَنَى مَسْجِدًا کہ جو شخص مسجد کی تعمیر کرتا ہے بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ الله تعالى و اس کے لئے جنت ویسی ہی تعمیر کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔“ اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے۔یہ خانہ خدا ہوتا ہے۔جس گاؤں یا شہر میں ہماری جماعت کی مسجد قائم ہو گئی تو سمجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑگئی۔اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو ایک مسجد بنادینی پھر خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گا لیکن شرط یہ ہے کہ قیام مسجد میں نیت بہ اخلاص ہو۔محض اللہ اُسے کیا جاوے۔نفسانی اغراض یا کسی شر کو ہر گز دخل نہ ہو تب خدا برکت دے ، ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 93 مطبوعہ ربوہ) گا۔"