365 دن (حصہ دوم) — Page 132
درس حدیث درس حدیث نمبر 60 132 حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صل اللہ ﷺ نے فرمایا: اِتَّقُوا اللَّقَانِيْنَ قَالُوا وَمَا اللَّقَانَانِ يَا رَسُوْلَ اللهِ ؟ قَالَ الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيْقِ النَّاسِ أَوْ ظِلِّهِمْ (مسلم کتاب الطهارة باب النهي عن التخلى فى الطرق والظلال حدیث نمبر 618) ہمارے نبی صلی الی و کم تو ہر نیکی اور ہر خوبی میں تمام بنی آدم سے بڑھے ہوئے تھے آپ کی دو خوبیوں کی جھلک اس مختصر فقرہ میں نظر آجاتی ہے۔آپ صلی کم حد درجہ پاک صاف، نفیس اور لطیف تھے۔آپ کا لباس بہت سادہ مگر پاکیزہ ہوتا تھا۔آپ کے بدن مبارک سے خوشبو کی مہک آتی تھی۔آپ کی حد درجہ مجاہدانہ زندگی کے باوجود آپ کی ہتھیلی کو چھونے والے بتاتے ہیں کہ ہر قسم کے ریشم سے زیادہ ملائم تھی۔دوسری خوبی جو اس فقرہ میں جھلکتی ہے یہ ہے کہ آپ صلی الی یکم انسانوں کو دکھ پہنچانے والی ہر چیز کو حد درجہ نا پسند کرتے اور اس سے منع فرماتے تھے۔حضرت ابو ہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی للی نیلم نے فرمایا: دو باتوں سے جو لعنت کا باعث ہوتی ہیں بچو۔ایک لعنت تو اس شخص کو دی جاتی ہے جو لوگوں کے چلتے راستے پر قضاء حاجت کرتا ہے اور دوسرے اس شخص کے لئے جو لوگوں کی سایہ دار جگہ پر (جہاں لوگ آرام کرتے ہیں) قضاء حاجت کرتا ہے۔ان دونوں ارشادات سے جہاں حضور صلی للی کلم کے پبلک کو تکلیف دہ چیزوں سے بچانے کا حکم ہے ، وہاں حضور صلی الیکم کی صفائی اور نفاست کا اظہار بھی ہوتا ہے۔