365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 118 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 118

درس حدیث 118 درس حدیث نمبر 48 حضرت زبیر بن عوام بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الہ وسلم نے فرمایا: لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَأْتِي بِحُزْمَةِ الْحَطَبِ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيْعَهَا فَيَكُفَّ اللَّهُ بِهَا وَجْهَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنْعُوْهُ ( بخاری کتاب الزكوة باب الاستعفاف عن المسألة حديث نمبر 1471) مشرق کے رہنے والے بعض دفعہ مغرب کے رہنے والوں کی کمزوریاں اور عیب بیان کرتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا کی ہر قوم میں ہر ملک کے لوگوں میں ہر نسل اور ہر رنگ کے لوگوں میں کچھ خوبیاں بھی ہوتی ہیں کچھ عیب بھی ہوتے ہیں مگر مشرق والوں کو یہ بھی مد نظر رکھنا چاہئیے کہ مغرب میں رہنے والوں میں مشرق کے رہنے والوں کے مقابلہ میں ایک خوبی زیادہ نظر آتی ہے اور وہ ہے ہاتھ سے کام کرنے کو عار نہ سمجھنا۔اور اس کی وجہ سے ان میں ایک صفت پائی جاتی ہے جس پر ہمارے دین میں بہت زور دیا گیا ہے۔اور وہ ہے مانگنے اور سوال کرنے کے بجائے محنت اور مزدوری کر کے کمانا اور کھانا۔حدیث میں آتا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام جو بادشاہ تھے اور اس علاقہ کے بادشاہ تھے جس میں آج اسرائیل کی حکومت قائم ہے۔مگر حضرت داؤد علیہ السلام کی حکومت آج کی اسرائیل کی حکومت سے علاقہ میں بڑی تھی۔اتنے بڑے علاقہ کی حکومت کے بادشاہ ہونے کے باوجو د ہمارے نبی صلی کم فرماتے ہیں کہ كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ ( بخاری کتاب البیوع باب كسب الرجل وعمله بيده حديث نمبر 2072) حضرت داؤد علیہ السلام ہاتھ سے کام کر کے اپنی روٹی کھاتے تھے۔خدا کے ایک نبی کا جو بادشاہ بھی تھا یہ کتنا بڑا نمونہ تھا جو آپ نے دنیا کو دکھایا۔افسوس ہوتا ہے ان لوگوں کو دیکھ کر ہاتھ پاؤں مضبوط رکھتے ہیں صحت مند ہیں لیکن محنت کرنے کے بجائے لوگوں سے مانگ کر کھا رہے ہوتے ہیں۔ہمارے نبی صلی الیم نے اس حدیث میں جو ہم نے پڑھی ہے فرمایا کہ: لأَن يَأْخُذُ