365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 109 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 109

درس حدیث 109 درس حدیث نمبر 40 حضرت کعب بن عیاض بیان کرتے ہیں سَمِعْتُ النَّبِى يا الله يَقُولُ إِنَّ لِكُلّ أُ فِتْنَةٌ وَفِتْنَةٌ أُمَّتِي الْمَالُ۔ا (ترمذی کتاب الزهد باب ان فتنة هذه الامة في المال حديث نمبر 2336) ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کو بعض قوموں کو دنیا میں حکومت اور قوت اور طاقت اور غلبہ عطا ہوتا ہے اور وہ اپنے رسوخ اور غلبہ پر بڑا فخر محسوس کرتے ہیں جیسا کہ آج ا کل مغرب کے بعض ممالک کا حال ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ غلبہ ان کو اپنی اچھی تدبیر کے ذریعہ حاصل ہوا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک امتحان ہے ایک ابتلاء ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا لیا جا رہا ہے کہ وہ اس حکومت اور غلبہ کے باوجو د عدل اور انصاف اور نرمی اور مخلوق کی ہمدردی کے کام کرتے ہیں یا نہیں۔بعض مردوں اور عورتوں کو حسن و جمال ملا ہوتا ہے اور وہ اس پر ناز کرتے ہیں مگر عالم یہ ہے کہ وہ اپنے حسن و جمال کو خود دیکھ بھی نہیں سکتے جب تک ان کے پاس آئینہ نہ ہو اور روشنی نہ ہو جس سے وہ خود اپنا حسن و جمال دیکھ سکیں۔بعض لوگ زمینوں اور کھیتوں کے مالک ہوتے ہیں اور اس پر ان کو فخر ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی وہ اپنے جیسے انسانوں کی حق تلفی کر رہے ہوتے ہیں۔حضرت داؤد علیہ السلام کی عدالت میں ایک شخص نے یہ مقدمہ دائر کیا کہ اس کے پاس ایک بکری ہے اس کے دوست کے پاس 99 بکریاں ہیں مگر اس کے دوست کی میری ایک بکری کو بھی ہتھیانے کی نظر ہے۔بعض لوگوں کو صحت اور لمبی عمر ملتی ہے اور وہ اس کو اپنی کسی خوبی کا نتیجہ سمجھتے ہیں مگر یہ مد نظر نہیں رکھتے کہ ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے اپنی یہ صحت اور عمر کس اچھے کام میں گزاری۔جو حدیث آج ہم نے پڑھی ہے اس میں حضور صلی ا لم یہ سبق دے رہے ہیں کہ ہر قدم پر اللہ تعالیٰ نے کوئی امتحان رکھا ہوا ہے کس کو طاقت کا، کسی کو کو ٹھیوں کا، کسی کو علم کا، کسی کو زمینوں کا، کسی کو جانوروں کے گلوں کا اور میری امت کے لئے جو خاص امتحان ہے ، وہ مال کا