365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 103 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 103

درس القرآن 103 درس القرآن نمبر 151 سَلْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ كَمْ أَتَيْنَهُمْ مِنْ آيَةٍ بَيِّنَةٍ وَمَنْ يُبَدِّلُ نِعْمَةَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (البقرة:212) ان لوگوں کا ذکر چل رہا ہے جو غیر معمولی عظیم نشانات دیکھنا چاہتے ہیں۔گزشتہ آیات میں یہ مضمون تھا کہ بعض لوگ جن کو تعلق باللہ اور ذکر الہی کی نعمت دی گئی ہے ازراہ انکار غیر معمولی نوعیت کے نشان دیکھنا چاہتے ہیں اور بادلوں میں اللہ اور اس کے ملائکہ کے اترنے کے منتظر ہیں مگر یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے پہلے بنی اسرائیل بھی جن کا تفصیلی ذکر پہلے گزر چکا ہے اس قسم کی الجھنوں میں گرفتار رہے۔سَلْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ كَمْ أَتَيْنَهُمْ مِنْ آيَةٍ بَيِّنَةِ بَنى اسرائیل سے پوچھو ان کی تاریخ اس بات سے بھری پڑی ہے کہ ہم نے ان کو کتنے روشن نشان دیئے اور یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا احسان تھا جو ان پر ہوا وَ مَنْ يُبَدِّلُ نِعْمَةَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ اب جو شخص اللہ کی نعمت کو جو اس پر ہوئی بدل دے فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ تو اللہ سزا میں سخت ہے۔حضرت مصلح موعود اس کی تشریح میں فرماتے ہیں:۔“ ہم نے یہود کو پہلے بھی بہت سے نعمتیں عطا فرمائی تھیں جن کی انہوں نے ناشکری کی مثلاً سب سے بڑی نعمت تو ان پر یہی نازل ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے متواتر انبیاء ان میں مبعوث فرمائے لیکن یہود نے ہمیشہ ان کی تکذیب کی اور ان کی مخالفت کو اپناشعار بنائے رکھا۔یہاں تک کہ بعض انبیاء کو انہوں نے جان سے بھی مارڈالا۔یہ خدا تعالیٰ کی نعمت کی ایک عظیم الشان ناشکری تھی جو ان سے ظاہر ہوئی۔اسی طرح عیسائیوں نے جو یہود کی ایک شاخ ہیں اس قدر ناشکری کی کہ شریعت کو لعنت قرار دیدیا۔غرض یہود کی ان متواتر سرکشیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت نبوت ان سے واپس لے لی کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتا الہی سنت کے مطابق وہ نعمتیں اس سے چھین لی جاتی ہیں اور اسے رنج و غم اور حسرت و یاس کے لمبے عذاب میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔" ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 460،459 مطبوعہ ربوہ)