365 دن (حصہ دوم) — Page 50
درس القرآن 50 درس القرآن نمبر 117 إنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطَرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (البقرة:174) شریعت کے احکامات اور قوانین کا مضمون جاری ہے اور حلال اور طیب کھانوں کی تاکید اور اس کلمہ کی حکمتیں بیان کی گئیں ہیں۔آج کی آیت میں اس حکم کا ایک پہلو بیان کیا ہے اور وہ یہ کہ پھر کون سے کھانے قطعی حرام ہیں اور کیوں؟ فرماتا ہے کہ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ کہ الله تعالیٰ نے مردار حرام کیا ہے اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ حرام کیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔یہ چار چیزیں قطعی حرام ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے چار قسم کی صلاحیتیں اور استعدادیں عطا فرمائی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جسم دیا ہے ، بدن دیا ہے اور اس لئے دیا ہے کہ وہ اپنے جسم اور جسمانی طاقتوں اور صلاحیتوں سے اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت کرے اور مردار چونکہ جسم انسانی کی صحت و صلاحیت کے لئے نقصان دہ ہے اس لئے اس کو منع فرمایا ہے۔دوسری اہم چیز جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمائی ہے، دماغ ہے اور خون چونکہ انسانی دماغ میں جوش پیدا کر تا ہے اس لئے اس کو حرام قرار دیا ہے۔تیسری قوت جو انسان کو دی گئی ہے وہ اخلاقی قوت ہے ، اخلاقی پاکیزگی ہے اور جیسا کہ اب سائنسدان بھی اس بات کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ غذاؤں کا اثر انسان کے اخلاق پر بہت گہر اہوتا ہے اس لئے خنزیر کے گوشت کو کھانے والی اقوام میں بعض قسم کی اخلاقی کمزوریاں نہ کھانے والی اقوام میں بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔چوتھی چیز تقویٰ اور روحانیت ہے جس کی لطیف صلاحیت انسان کو دی گئی ہے اور شرک اور ایسے افعال سے منع کیا گیا ہے جو شرک کی طرف لے جائیں۔اس آیت میں اس چیز کے کھانے سے منع کیا گیا ہے جو اللہ کے سوا کسی ہستی سے نامزد کی گئی ہو۔ہاں مگر انتہائی اضطرار