365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 49 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 49

درس القرآن 49 درس القرآن نمبر 116 يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ الله (البقرة:173) جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے سورۃ البقرۃ کی ان آیات میں حضور صلی ال نیم کے ابراہیمی پیشگوئی کے مطابق چار عظیم الشان کاموں میں سے دوسرے اور تیسرے کاموں کا ذکر ہے شروع ہے اور اس ضمن میں پہلا حکم حلال اور طیب کھانے کا ارشاد ہے جس کا ذکر یا يُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَا طَيِّبًا ( البقرة : 169 سے شروع ہوتا ہے اس کے بعد تین آیات میں اس عظیم الشان حکم کی اہمیت بتائی گئی ہے اور اس حکم کا جو انکار کرتے ہیں ان کی نادانی کا ذکر ہے۔آج کی آیت میں مومنوں کو خاص طور پر مخاطب کر کے اس حکم کا ذکر ہے اور کھانے 66 پینے کا عبادت کے ساتھ جوڑ قائم کیا ہے ، فرمایا ہے:۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے بطور رزق تمہیں عطا کی ہیں، کھاؤ۔مومنوں کے متعلق حلال کھاؤ” کے عمومی حکم کے بعد ناجائز کھانے کا تو تصور بھی نہیں ہو سکتا۔البتہ طیب کے بارہ میں یعنی طبیعت، مزاج، صحت، معاشرہ کے رواج کو مد نظر رکھنا اتنا آسان نہیں جتنا حرام و حلال کا فرق ہے اس لئے مومنوں کے لئے اس بات کو دہراتے ہوئے خصوصاً طیبات کا ذکر ہے۔مگر اس آیت میں صرف کھانے کا حکم نہیں بلکہ کھانے کا حکم خد اتعالیٰ کے احسانات کے شکر اور عبادت سے باندھا گیا ہے، فرماتا ہے کہ یہ طیبات تم نے خود پیدا نہیں کیں ہم نے تمہیں عطا کی ہیں اس لئے تم پر شکر واجب ہے کیونکہ تم اگر ہر قسم کے شرک سے پاک ہوتے ہوئے صرف اللہ کی عبادت کرتے ہو تو شکر عبادت کا لازمی حصہ ہے۔خدا تعالیٰ کی پاکیزہ نعمتوں پر شکر کئے بغیر عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں:۔“ یہاں یہ فرمایا کہ اگر تم صرف طیبات ہی استعمال کرو گے تو اس کے نتیجہ میں تم اللہ تعالیٰ کا شکر بجالا سکو گے یعنی تمہیں ایسے نیک اعمال کی توفیق ملے گی جو تمہاری روح کو اللہ تعالیٰ کے آستانہ کی طرف کھینچ کر لے جائیں گے۔" وو (تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 338 مطبوعہ ربوہ)