365 دن (حصہ دوم) — Page 27
درس القرآن 27 س القرآن نمبر 100 وَلَبِنْ آتَيْتَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ بِكُلِّ آيَةٍ مَّا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ وَمَا أَنْتَ بِتَابع (البقرة:146) قِبْلَتَهُمْ وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعِ قِبْلَةَ بَعْضٍ وَلَبِنِ اتَّبَعْتَ أهْوَاءَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّكَ إِذَا تَمِنَ الظَّلِمِينَ قبلہ کی تبدیلی جو دراصل مذہب کی تبدیلی کی ظاہری علامت ہے اس کے متعلق ان لوگوں کا رویہ جن کو کتاب دی گئی، شروع اسلام سے سخت مخالفانہ رہا اور آج جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لٹریچر کے ذریعہ حقیقت کے لحاظ سے کسر صلیب ہو چکا ہے، آج بھی مخالفانہ ہے۔خواہ ہزار دلائل دو، وہ مخالفانہ بحث کرتے چلے جائیں گے مثلاً ان کا عقیدہ ہے کہ الوہیت میں تین (3) وجود ہیں، تینوں الگ الگ ہیں، تینوں خدا ہیں مگر پھر بھی تین نہیں بلکہ ایک خدا ہے۔اب اس پر کئی دفعہ بات ہوتی ہے ظاہر آیہ نظر آتا ہے کہ کوئی تعلیم یافتہ آدمی اس بات کو نہیں مان سکے گا۔مگر ہوتا یہی ہے کہ ضد پر اڑ جاتے ہیں۔و یہاں یہ بات مد نظر رہے کہ اس آیت میں ان اہل کتاب کا جو مخالفانہ انداز رکھتے ہیں أوتُوا الكتب کے الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے یعنی ان کو کتاب دی گئی تھی مگر اس سے اگلی آیت میں جہاں اہل کتاب کے ایک گروہ کی تعریف کی گئی ہے اتنهُمُ الْكِتَب کے الفاظ ہیں یعنی ہم نے ان کو کتاب دی۔اس معمولی سی تبدیلی کے ساتھ قرآن مجید نے الگ الگ مضامین بیان فرمائے ہیں۔بہر حال فرماتا ہے کہ انکار کرنے والے اپنی مخالفت پر نشان اور دلائل کے باوجود اڑے ہوئے ہیں اور آپ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح حکم آجانے کے بعد ان کے قبلہ کی پیروی نہیں کر سکتے۔مگر یہ اعتراض تو قبلہ کی تبدیلی کا آپ پر کرتے ہیں۔خود ان کی تاریخ اس بات سے بھری پڑی ہے کہ یہ قبلہ تبدیل کرتے رہے ہیں۔موسوی شریعت کے مطابق اصل قبلہ تو جیسا کہ استثناء کی کتاب میں حکم ہے کوہ عیبال پر تھا۔پھر حضرت موسی کے لمبے عرصہ بعد یروشلم کو قبلہ قرار دیا گیا۔(اگر حضرت موسیٰ کے حکم کو اور پھر اس کی تعمیل کو دیکھا جائے تو یروشلم پر اہل کتاب کا کوئی حق نہیں بنتا) پھر یہود و نصاریٰ کے قبلہ میں بھی اختلاف رہا ہے۔پس اگر ان حقائق کے باوجو د بھی (اے مخاطب) تم اہل کتاب کی کھو کھلی خواہشات کی پیروی کرو تو تم سراسر ظلم کرنے والے ہو۔