365 دن (حصہ دوم) — Page 216
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 75 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔216 “انصاف دیکھا جاوے کہ ہمارے ہادی اکمل کے صحابہ نے اپنے خدا اور رسول کے لئے کیا کیا جان شاریاں کیں۔جلا وطن ہوئے، ظلم اٹھائے، طرح طرح کے مصائب برداشت کیے، جانیں دیں۔لیکن صدق و وفا کے ساتھ قدم مارتے ہی گئے۔پس وہ کیا بات تھی کہ جس نے انہیں ایسا جاں نثار بنا دیا۔وہ سچی الہی محبت جوش تھا۔جس کی شعاع ان کے دل میں پڑ چکی تھی، اس لئے خواہ کسی نبی کے ساتھ مقابلہ کر لیا جاوے۔آپ کی تعلیم تزکیہ نفس اپنے پیروؤں کو دنیا سے متنفر کر ادینا۔شجاعت کے ساتھ صداقت کے لئے خون بہا دینا۔اس کی نظیر کہیں نہ مل سکے گی۔یہ مقام آنحضرت صلی اللی علم کے صحابہ کا ہے اور ان میں جو باہمی الفت و محبت تھی۔اس کا نقشہ دو فقروں میں بیان فرما ہے وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ انْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا الَفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِم (الانفال:64 ) یعنی جو تالیف ان میں ہے وہ ہر گز پیدا نہ ہوتی، خواہ سونے کا پہاڑ بھی دیا جاتا۔اب ایک اور جماعت مسیح موعود کی ہے جس نے اپنے اندر صحابہ کار نگ پیدا کرنا ہے۔صحابہ کی تو وہ پاک جماعت تھی۔جس کی تعریف میں قرآن شریف بھرا پڑا ہے۔کیا آپ لوگ ایسے ہیں ؟ جب خدا کہتا ہے کہ حضرت مسیح کے ساتھ وہ لوگ ہوں گے ، جو صحابہ کے دوش بدوش ہوں گے۔صحابہ تو وہ تھے جنہوں نے اپنا مال، اپنا وطن راہ حق میں دیدیا اور سب کچھ چھوڑ دیا۔حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا معاملہ اکثر سنا ہو گا۔ایک دفعہ جب راہ خدا میں مال دینے کا حکم ہوا، تو گھر کا کل اثاثہ لے آئے۔جب رسول کریم صلی ا ہم نے دریافت کیا کہ گھر میں کیا چھوڑ آئے، تو فرمایا کہ خدا اور رسول کو گھر چھوڑ آیا ہوں۔رئیس مکہ ہو اور کمبل پوش غرباء کا لباس پہنے۔یہ سمجھ لو کہ وہ لوگ تو خدا کی راہ میں شہید ہو گئے۔" مشکل الفاظ اور ان کے معانی: دوش بدوش (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 27 مطبوعہ ربوہ) ساتھ ساتھ اثاثہ مال و متاع، جمع پونجی، سرمایه