365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 18 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 18

درس القرآن 18 درس القرآن نمبر 92 قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْعِيْلَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُم (البقرة:137) وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ بنی اسرائیل کے اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے بعد کہ نبوت کیوں بنی اسرائیل سے چھین لی گئی اب اسلام کی ان تمام سابقہ مذاہب کے مقابلہ میں ایک اعلیٰ درجہ کی خوبصورتی کا ذکر فرماتا ہے، جو بنی اسرائیل اور دیگر تمام نبیوں کو ماننے والوں پر زبر دست حجت ہے کہ تم لوگ ایک یا دو یا تین نبیوں پر ایمان لاتے ہو یا ایک علاقہ یا ایک قوم و نسل یا ایک زبان بولنے والے نبیوں پر ایمان لاتے ہو۔مگر اسلام کی یہ امتیازی خوبی اور خوبصورتی ہے کہ وہ تمام نبیوں اور رسولوں اور پیشوایان مذاہب پر ایمان لانا ضروری قرار دیتا ہے گویا ہر مذہب اپنے ماننے والوں کے ہاتھ میں ایک یا دو یا تین پھول پکڑوا تا ہے مگر اسلام اپنے ماننے والوں کے ہاتھ میں ایسا گل دستہ پکڑا تا ہے جس میں دنیا بھر کے پھول موجود ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا خوبصورت تشریحی ترجمہ اس آیت کا فرماتے ہیں:۔“اے مسلمانو! تم اس طرح پر ایمان لاؤ اور یہ کہو کہ ہم اس خدا پر ایمان لائے جس کا نام اللہ ہے یعنی جیسا کہ قرآن شریف میں اُس کی صفات بیان کی گئی ہیں وہ جامع تمام صفات کاملہ کا ہے اور تمام عیبوں سے پاک ہے اور ہم خدا کے اُس کلام پر ایمان لائے جو ہم پر نازل ہوا یعنی قرآن شریف پر اور ہم خدا کے اس کلام پر بھی ایمان لائے جو ابراہیم نبی پر نازل ہو ا تھا اور ہم خدا کے اس کلام پر ایمان لائے جو اسمعیل نبی پر نازل ہوا تھا اور اُس کلام خدا پر ایمان لائے جو اسحاق نبی پر نازل ہوا تھا اور اُس کلام خدا پر ایمان لائے جو یعقوب نبی پر نازل ہوا تھا اور اُس کلامِ خدا پر ایمان لائے جو یعقوب نبی کی اولاد پر نازل ہوا تھا اور اُس کلام خدا پر ہم ایمان لائے جو موسیٰ نبی کو دیا گیا تھا اور اُس کلام خدا پر ہم ایمان لائے جو عیسی نبی کو دیا گیا تھا اور ہم اُن تمام