365 دن (حصہ دوم) — Page 171
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 50 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔تقوی کی بابت نصیحت اپنی جماعت کی خیر خواہی کے لیے زیادہ ضروری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ تقویٰ کی بابت نصیحت کی جاوے، کیونکہ یہ بات عقل مند کے نزدیک ظاہر ہے کہ بجز تقویٰ کے اور کسی بات سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہو تا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِيْنَ هُمْ مُحْسِنُونَ (النحل: 129) ہماری جماعت کے لئے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے۔خصوصاً اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے سلسلہ بیعت میں ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے تا وہ لوگ خواہ کسی قسم کے بعضوں، کینوں یا شرکوں میں مبتلا تھے یا کیسے ہی روبہ دنیا تھے ، ان تمام آفات سے نجات پاویں۔آپ جانتے ہیں کہ اگر کوئی بیمار ہو جاوے خواہ اس کی بیماری چھوٹی ہو یا بڑی اگر اس بیماری کے لئے دوانہ کی جاوے اور علاج کے لئے دکھ نہ اٹھا یا جاوے بیمار اچھا نہیں ہو سکتا۔ایک سیاہ داغ منہ پر نکل کر ایک بڑا فکر پیدا کر دیتا ہے کہ کہیں یہ داغ بڑھتا بڑھتا گل منہ کو کالا نہ کر دے۔اسی طرح معصیت کا بھی ایک سیاہ داغ دل پر ہوتا ہے۔صغائر سہل انگاری سے کبائر ہو جاتے ہیں۔صغائر وہی داغ چھوٹا ہے جو بڑھ کر آخر کار گل منہ کو سیاہ کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے ویسا ہی قہار اور منتقم بھی ہے۔ایک جماعت کو دیکھتا ہے کہ ان کا دعویٰ اور لاف و گزاف تو بہت کچھ ہے اور ان کی عملی حالت ایسی نہیں، تو اس کا غیض و غضب بڑھ جاتا ہے۔پھر ایسی جماعت کی سزا دہی کے لئے وہ کفار کو ہی تجویز کرتا ہے۔جولوگ تاریخ سے واقف ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ کئی دفعہ مسلمان کافروں سے تہ تیغ کئے گئے۔جیسے چنگیز خاں اور ہلاکو خاں نے مسلمانوں کو تباہ کیا، حالا نکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے حمایت اور نصرت کا وعدہ کیا ہے ، لیکن پھر بھی مسلمان مغلوب ہوئے۔اس قسم کے واقعات بسا اوقات پیش آئے۔اس کا باعث یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ لَا اِلهَ إِلَّا اللہ تو پکارتی ہے، لیکن اس کا دل اور طرف ہے اور اپنے افعال سے وہ بالکل رو بدنیا ہے تو پھر اس کا قہر اپنا رنگ